حیاتِ خالد — Page 608
حیات خالد 603 آخری ایام علاج کیا گیا لیکن طبیعت سنبھل نہ سکی اور بالآخر ایک بجے شب خدمت دین کے لئے نہایت فعال اور سرگرم زندگی گزارنے اور آخری لمحات تک اہم دینی خدمات سرانجام دینے کے بعد داعی اجل کو لبیک کہہ کر مولائے حقیقی سے جاملے۔حضرت مولوی صاحب رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی خدمت اسلام اور خدمت دین میں بسر ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو گراں بہا اور نہایت قابل قدر دینی خدمات کرنے اور یوں آنے والی نسلوں کیلئے خدمت و فدائیت کی نہایت درخشندہ مثال قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔آپ جید اور قتبحر عالم دین ہونے کے علاوہ نہایت قادر الکلام اور فصیح البیان مقرر اور سلسلہ احمدیہ کے نامور صحافی بھی تھے۔اندرون ملک شاندار تبلیغی خدمات کرنے کے علاوہ آپ کو بلا دعر بیہ میں بھی بطور مبلغ اسلام خدمت کی توفیق ملی۔پھر لمہے عرصہ تک صدر مجلس کار پرداز اور ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد ( تعلیم القرآن ) کے عہدوں پر بھی فائز رہ کر اہم خدمات سرانجام دیں۔اس لحاظ سے بھی آپ کا نمونہ جماعت کی آئندہ نسلوں کے لئے قابل قدرد قابل تقلید ہے کہ آپ نے اپنے بچوں کو بھی اعلیٰ تربیت اور اعلیٰ دنیوی تعلیم دلا کر خدمت دین کے لئے وقف کیا۔چنانچہ آپ کے ایک صاحبزادے مکرم عطاء المجیب صاحب را شد ایم۔اے اس وقت جاپان میں اور دوسرے بیٹے مکرم عطاء الکریم صاحب شاہد لائبیر با میں مبلغ اسلام کے طور پر کام کر رہے ہیں۔تیسرے بیٹے مکرم عطا والرحیم صاحب حامد سیرالیون میں سلسلہ کے ایک تعلیمی ادارے میں اہم خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔آپ کے ایک داماد مکرم منصور احمد صاحب عمر بہاولپور میں مربی سلسلہ کے طور پر متعین ہیں۔احباب جماعت دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جنت الفردوس میں بلند سے بلند تر درجات عطا فرمائے اور آپ کی روح پر انوار و برکات کی بارش نازل فرمائے۔آپ کی بیگم صاحبہ محترمہ، آپ کے صاحبزادوں، صاحبزادیوں اور دیگر جملہ لواحقین کو اور جماعت کو صبر جمیل کے ساتھ اس عظیم جماعتی صدمہ کو برداشت کرنے کی توفیق دے اور آپ کی المناک رحلت سے جماعت میں بظا ہر جو خلاء نظر آتا ہے اسے خود اپنے فضل و کرم سے پر فرمائے۔آمین اللهم امين الفضل ۳۰ مئی ۱۹۷۷ء صفحہ اوّل) اس سے اگلے روز یعنی اس رمئی ۱۹۷۷ء کے الفضل میں صفحہ اول پر سب سے بڑی خبر تدفین کی تفاصیل پر ہنی تھی۔جو ذیل میں درج ہے۔