حیاتِ خالد — Page 590
حیات خالد 584 ذاتی حالات فرما۔میری روح تیرے کلام کے علم کی پیاسی ہے۔تو اسے شیر میں علم قرآن دے دے۔پھر دے اور ش دے اور دیتا ہی جا حَتَّى يَأْتِيَهَا الْيَقِينُ - آمين يا رب العالمين ☆☆ ابو العطاء جالندھری۔باندرہ بمبئی ۳۰ رمضان ۱۳۵۷ ہجری ۱۹۳۸ء یکم ستمبر ۱۹۳۸ء۔آج میری پیاری والدہ کی وفات پر سال گذر گیا۔اے خدا! تو ان کے درجات بلند فرما اور میرے والدین پر بے شمار فضل نازل فرما۔آمین تیرا نا کارہ بندہ ابو العطاء جالندھری ۱۹۳۸ء۔۹۔ا قادیان درس القرآن المجید کے بعد بہشتی مقبرہ گیا اور والدہ سے سلام عرض کیا۔آوا آج مجھے کوئی اللہ دتا کہہ کر نہیں پکارتا۔☆☆☆ ۱۹۳۸ء۔۹-۱ ان کا اللہ دتا" آج پھر یکم ستمبر آ گیا۔گویا میری والدہ کو ہم سے جدا ہوئے دو سال بیت گئے۔اچھا یہ ایام وستین گزرتے جائیں گے مگر وہ یاد، مقدس اور پیاری یاد، ہمیشہ قائم رہے گی۔اس کے نقوش زیادہ گہرے ہوتے جائیں گے۔اے خدا تو میرے والد اور میری والدہ پر بے انتہاء کرم فرما۔ان کی بدولت ہی ہمیں احمدیت کی نعمت حاصل ہوئی ہے۔تو ان پر اپنے فضلوں کی غیر محدود بارش برسا تارہ۔وہ تیرے بندے تھے اور ہمارے محسن ماں باپ۔میں آج بھی ان کی یاد میں دلفگار و آبدیدہ ہوں۔اے خدا تو ہم قیموں کا دستگیر ہو آمین۔خاکسار ابوالعطاء جالندھری ۶ ۱ رجب ۱۳۵۹ھ ۱۹۳۹ء۔۹۔ا قادیان