حیاتِ خالد — Page 569
حیات خالد 563 ذاتی حالات باپ نے اپنی بیٹی کی رائے معلوم کرتے ہوئے یہ بات واضح کر دی کہ ہرگز کسی قسم کا جبر خود پر محسوس نہ کرنا۔اس میں بین السطور ایک احمدی خاتون کو یہ بھی بتا دیا گیا تھا کہ بے شک امام وقت کی طرف سے رشتہ کا تعین بے حد برکتوں اور سعادتوں کا منبع ہوتا ہے لیکن فیصلہ بہر حال ہر احمدی خاتون کا اپنا ہے۔اور اس میں اسے کسی قسم کے دباؤ کے بغیر فیصلہ کرنا ضروری ہے۔چنانچہ نیک بخت اور سعید فطرت خاتون نے اپنی زندگی کا نہایت اہم فیصلہ بالکل درست اور صحیح کیا اور ایک عظیم خادم دین کی رفیقہ حیات بنے کا فیصلہ کر کے تاریخ میں اپنا نام ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا۔اس نیک بخت خاتون نے اس رشتہ پر آمادگی میں بھی اپنی نیکی اور سعادت کا بھر پور مظاہرہ کیا اور رشتہ کے اقرار میں یہ نہیں کہا کہ میری رائے بھی یہی ہے یا میں اپنے باپ کی رائے سے اتفاق کرتی ہوں بلکہ ایک مخلص اور مومنہ احمدی خاتون ہونے کا اظہار یوں کیا کہ لکھا۔و مجھے حضرت صاحب کا حکم سر آنکھوں پر منظور ہے“ (الفرقان ربوہ دسمبر ۱۹۵۹ء صفحه ۵) حضرت مولوی محمد عبد اللہ صاحب بوتا لوٹی نے اس رشتہ کے لئے اپنے بیٹے محترم مولانا عبد الرحمن انور صاحب (جو بعد میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر لمبا عرصہ کام کرتے رہے) کو بھی خط لکھا جنہوں نے اپنی رضامندی کا فوری اظہار فرمایا۔محترم مولانا عبد الرحمن انور صاحب تحریر فرماتے ہیں۔اللہ تعالی نے اپنے فضل و کرم سے حضرت مولوی صاحب کے ساتھ قرابت داری کا تعلق بھی قائم فرمایا۔جب مولوی صاحب کی اہلیہ اول کی وفات ہوئی تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو حضرت اماں جان کے ذریعے علم ہوا کہ میری چھوٹی ہمشیرہ عزیزہ سعیدہ بیگم قابل شادی ہیں تو حضور نے مکرم والد صاحب محترم مولوی محمد عبد اللہ صاحب بوتا لوئی کو اپنے ہاتھ سے اس بارہ میں لکھا جس کی نقل مکرم والد صاحب نے خاکسار کو ۲۰۔جوان ۱۹۳۰ء کو ارسال کی۔اس پر مکرم والد صاحب نے مجھے خط لکھا کہ اگر چہ اس سے قبل میں خود اس رشتہ کے بارہ میں آپ سے دریافت کرنے والا تھا لیکن اب یہ تحریک اس عظیم الشان انسان کی طرف سے ہے جس کے سامنے اپنے رسمی اور دنیاوی خیالات خام کا پیش کرنا سوء ادب اور خلاف احکام خدا و رسول ہے ہے اس واسطے میں اب عذر لنگ پیش کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتا البتہ اس کے سوا اگر کوئی اور امر قابل اظہار ہو