حیاتِ خالد — Page 486
حیات خالد 484 تصنیفات امسال اگست ستمبر میں مجھے کوئٹہ جانے کا اتفاق ہوا۔میرا چھوٹا بیٹا عزیز عطاء المجیب راشد سلمہ ربه بھی میرے ہمراہ تھا۔عزیز بھائی شیخ محمد حنیف صاحب امیر جماعت احمد یہ کوئن اور محترم جناب شیخ محمد اقبال صاحب کی کوٹھی کے پر سکون ماحول میں مجھے تمہیمات ربانیہ پر نظر ثانی کا نہایت عمدہ موقعہ میسر آیا۔جزا هما الله خيرا جن مخلص احباب اور معاونین نے دوسرے ایڈیشن کے لئے مفید اور بہترین مشوروں سے نوازا ہے یا کسی اور رنگ میں امداد فرمائی ہے مثلا پیشکی قیمت ادا فرما کر یا ضرورت کے مطابق بطور قرض رقم فراہم کر کے کتاب کی اشاعت میں حصہ لیا ہے میں ان سب کا تہ دل سے شکر گزار ہوں۔دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے نفوس اور اموال میں برکت دے۔آمین میرے دوست منشی نورالدین صاحب خوشنویس، ماہنامہ الفرقان کے دیرینہ کاتب نے جس خلوص سے تمہیمات ربانیہ کے بیشتر حصہ کی کتابت کی ہے۔(فصل دہم کی کتابت مکرم منشی محمد اسماعیل صاحب نے کی ہے۔جزاه الله (مؤلف) اور مستری عبد الرحمن صاحب انچارج ضیاء الاسلام پریس نے جس طرح طباعت میں اہتمام کیا اس کیلئے وہ دونوں اور ان کے سب معاون شکریہ کے مستحق ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے آمین۔یہ کتاب محض حق کی تائید اور صداقت کی حمایت کے لئے اب دوسری مرتبہ شائع کی جارہی ہے اس لئے بارگاہ رب العزۃ میں خاص طور پر دعا و التجاء ہے کہ وہ اپنی بے پایاں رحمت سے قبول فرما کر بہتوں کی ہدایت کا موجب بنائے اور مجھے اور میری ساری اولاد اور جملہ اصحاب و احباب کو ہمیشہ حق پر قائم رکھے اور دین اسلام کی بہترین خدمت بجا لانے کی زندگی بھر توفیق بخشا ر ہے اور جب ہم اس زندگی کے بعد اس کے حضور حاضر ہوں تو سرخرو ہو کر حاضر ہوں اور وہ ہمیں اپنی آغوش رحمت میں لے لے۔اللهم امین یا رب العالمین۔ربوہ ضلع جھنگ (مغربی پاکستان ) یکم دسمبر ۱۹۶۴ء۔خاکسار نا چیز خادم اسلام ابوالعطاء جالندھری ایڈیٹر ماہنامہ الفرقان