حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 475 of 923

حیاتِ خالد — Page 475

حیات خالد 471 ماہنامہ الفرقان" مولانا نے شائع کیا جو حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی اسلامی وضع قطع اور نورانی چہرہ کے بارہ میں مفتی محمود کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا تھا۔اور " لولاک میں ایک بیان کے ساتھ پہلی مرتبہ شائع ہوا تھا۔الفرقان میں اس کی اشاعت کے بعد مدیر لولاک نے اس کی تردید کرنے کی کوشش کی لیکن تیر کمان سے نکل چکا تھا۔اسی طرح بعض اہم اور تاریخی واقعات عین وقت پر الفرقان میں شائع کرنا 0 حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی خدا داد بصیرت اور ذہانت پر دلالت کرتا ہے۔محترم جمیل الرحمن رفیق صاحب وائس پرنسپل جامعہ احمد یہ رقم فرماتے ہیں :- حضرت مولانا موصوف کا رسالہ الفرقان ہمیشہ ہی میرا پسندیدہ رسالہ تھا اور شوق سے ہمیشہ زیر مطالعہ رہا۔اپنے بلند پایہ مضامین کی وجہ سے یہ رسالہ جماعت میں بہت مقبول تھا۔آپ اسے بہتر سے بہتر بنانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں فرماتے تھے۔ایک بار جب رسالہ آیا تو خاکسار بڑا حیران ہوا کہ اس میں خاکسار کا ایک مضمون شائع ہوا تھا۔ہوا یوں کہ خاکسار نے بیروت سے ایک ضخیم کتاب کتاب ختم الاولیاء" منگوائی جو کہ قریباً ایک ہزار سال سے قلمی نسخے کی صورت میں تھی اور پہلی بار با قاعدہ پریس میں شائع ہوئی تھی۔ایک ہزار سے اوپر اس کے صفحات تھے۔خاکسار ان دنوں تنزانیہ میں تھا۔کتاب دلچسپ تھی۔اس کتاب پر خاکسار نے تعارفی نوٹ لکھا اور اس میں خاتم النبیین کے بارہ میں ایک نہایت دلچسپ اور بالکل نیا حوالہ بھی درج کیا تھا۔مضمون تو میں نے الفضل کو ارسال کیا تھا۔مگر چھپ گیا الفرقان میں جس سے مجھے بہت خوشی ہوئی۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مولانا کو الفضل والوں نے بھجوا دیا ہوگا۔جس نئے حوالے کا میں نے ذکر کیا ہے وہ جماعتی لٹریچر میں سب سے پہلے الفرقان میں شائع ہوا۔اس کے بعد اب دیگر جماعتی تحریرات میں بھی آنے لگا ہے۔مذکورہ کتاب حکیم الترندی کی لکھی ہوئی ہے۔اس حوالہ کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ نے ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی میں پیش فرمایا۔اس باب کے آخر میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جامعہ احمدیہ کے ایک الفرقان پر مقاله طالب علم مکرم محمد مقصود صاحب منیب ایم۔اے نے شاہد کی ڈگری کیلئے ماہنامہ الفرقان کے بارہ میں ایک تفصیلی مقالہ تحریر کیا۔انہوں نے خاکسار مؤلف کتاب کی نگرانی میں یہ کام کیا۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ایک خاص بات ہے کہ اس بلند پایہ علمی رسالہ پر ایک جامع مقالہ لکھا گیا جو جامعہ احمد یہ ربوہ کی لائبریری میں محفوظ ہے۔