حیاتِ خالد — Page 455
حیات خالد 451 ماہنامہ الفرقان ایک مفصل تبصرہ" ہے جو حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کا تحریر کردہ ہے۔جس میں آپ نے مولانا محمد یوسف صاحب ہنوری کے ان الزامات کی بھر پور دلائل سے تردید کی ہے جو اس نے جماعت پر لگائے ہیں۔اس تبصرے پر مشتمل مقالہ کا اسلوب اس قدر دلچسپ ہے کہ سارا تبصرہ پڑھنے کو خود بخود طبیعت مائل ہو جاتی ہے اور دل خدا کی حمد سے بھر جاتا ہے۔رسالہ الفرقان اپنی مقبولیت اور اہمیت کے لحاظ سے جماعت احمد الفرقان کا حلقہ قار یکن کی صحافت میں ایک غیر معمولی مرتبہ رکھتا ہے اور عام طور پر اس رسالہ کو ماڈل کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے اور آج بھی لوگ اس رسالے کو یاد کرتے ہیں۔اس کی ایک وجہ حضرت مولانا کی اپنی ہمہ گیر اور مشہور و معروف شخصیت بھی ہو سکتی ہے کیونکہ الفرقان کی مقبولیت کی اصل وجہ اس کا علمی معیار تھا یہی وجہ تھی کہ الفرقان نہ صرف جماعت میں مقبول ترین ماہنامہ تھا بلکہ غیر از جماعت علمی حلقوں میں بھی اس کو خوب شہرت اور مقبولیت حاصل تھی۔اس سلسلہ میں مکرم عطاء المجیب صاحب راشد نے اپنا ایک ذاتی تجربہ بڑے دلچسپ انداز میں لکھا ہے جو اس جگہ درج کرنا بہت مناسب ہوگا۔آپ لکھتے ہیں۔غالبا سن ۶۷ یا ۶۸ کی بات ہے کہ مجھے وقت عارضی کرنے کی توفیق ملی۔مکرم محترم میر محمود احمد صاحب ناصر اور مکرم ملک فاروق احمد کھو کھر صاحب کے ساتھ میں نے یہ عرصہ کو ہ مری میں گزارا۔ایک دن خیال آیا کہ اس علاقہ میں پیر صاحب موہڑہ شریف کا مرکز بھی دیکھا جائے چنانچہ ہم راستہ پوچھتے بچھاتے بالآخر منزل پر پہنچ گئے۔یہ مرکز مری کے نواح میں پہاڑوں کے دامن میں بہت گہری جگہ پر واقع تھا۔کافی لمبا سفر طے کر کے ہم وہاں پہنچے تو مرکز کے کارکنان نے ہمارا پر تپاک استقبال کیا۔ہم نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ اگر ممکن ہو تو ہم کچھ دیر کے لئے پیر صاحب سے ملنا چاہتے ہیں۔چند منٹ میں ہم تینوں پیر صاحب کے ملاقات کے کمرہ میں تھے۔وہ ایک فرشی قالین پر گدی پر بیٹھے تھے۔درمیانی عمر، وجیہہ صورت ، تعلیم یافتہ اور کھلے ذہن کے مالک تھے۔بہت اچھے ماحول میں بات چیت ہوئی۔ہم نے اپنا تعارف کروایا تو بہت خوش ہوئے اور بتایا کہ وہ احمدیت سے خوب متعارف ہیں۔یہ ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اس قالین کا ایک کو نہ اُٹھایا تو اس کے نیچے الفضل اور الفرقان کے تازہ پرچے تھے۔انہوں نے بتایا کہ یہ دونوں جرائد ان کے پاس باقاعدہ آتے ہیں اور وہ بڑے شوق سے ان کا مطالعہ کرتے ہیں۔ساتھ ہی کہنے لگے کہ میں ان جرائد کو قالین کے نیچے رکھتا ہوں تا کہ باقی