حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 42 of 923

حیاتِ خالد — Page 42

حیات خالد ما الله ولادت ، بچپن اور تعلیم کرنے والے لوگوں کو دھمکا کر اس بات پر راضی کر لیا کہ بچہ قبرستان میں ہی دفن ہو جائے۔چنانچہ وہ و ہیں دفن کیا گیا۔(الفرقان اپریل ۱۹۶۸ء صفحہ ۱) موسیٰ پور کے سکول سے پرائمری پاس کرنے کے بعد حضرت مولانا کے مخلص دینی تعلیم کا آغاز اور فدائی والد ماجد حضرت منشی امام الدین صاحب نے آپ کو واقف زندگی کی حیثیت سے مزید تعلیم کیلئے قادیان بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا۔حضرت مولانا لکھتے ہیں :- میرے والدین اپنی غربت کے باوجود احمدیت کے نور سے منور تھے۔وہ مجھے احمدیت کا ایک سپاہی دیکھنا چاہتے تھے۔پانچویں جماعت پاس کرنے کے بعد قادیان دار الامان میں پڑھنے کی سکیم تھی۔میرے ماموں حضرت ڈاکٹر محمد ابراہیم صاحب بسلسلہ فوجی ملازمت ان دنوں فرانس میں تھے۔انہوں نے مجھے لکھا کہ تم قادیان ہائی سکول میں پڑھو جملہ اخراجات کا میں ذمہ دار ہوں گا"۔(الفرقان نومبر ۱۹۶۷ صفحه ۴۱) حضرت مولانا نے اس ضمن میں قادیان جانے کا واقعہ لکھا ہے جس سے آپ کے دلی جذبات اور عزم صمیم کا پتہ چلتا ہے۔آپ نے تحریر فرمایا :- وو شروع ۱۹۱۶ء میں قریبا بارہ سال کی عمر میں میں حضرت والد صاحب مرحوم کی معیت میں گاؤں سے قادیان کیلئے روانہ ہوا۔بٹالہ سے ہم دونوں باپ بیٹا پیدل چل رہے تھے۔ابھی وہاں ریل نہ تھی وڈالہ گرنتھیاں اور نہر کے درمیانی حصہ میں تھے کہ میں زار و قطار رونے لگا۔حضرت والد صاحب نے پوچھا کہ کیوں روتے ہو؟ میں نے کہا کہ والدہ یاد آتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چلو پھر واپس چلیں۔میں نے کہا کہ نہیں واپس تو نہیں جانا ، واپس تو پڑھ کر ہونا ہے۔اس پر والد صاحب مرحوم نے فرمایا کہ میں نے بھی تو تمہارا امتحان ہی لیا ہے اور میں خوش ہوں کہ تم نے ہمت والا جواب دیا ورنہ یونہی واپسی کا اب کوئی مطلب نہیں ہے“۔ہم شام کو قادیان پہنچے۔قادیان میں حضرت چوہدری غلام احمد صاحب آف کریام پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔دوسرے روز نماز ظہر یا نماز عصر کے بعد سید نا حضرت خلیفہ امسیح قطعی فیصلہ الثانی رضی اللہ عنہ جن کی بھر پور جوانی کا عالم تھا مسجد مبارک میں رونق افروز تھے۔حضرت چوہدری غلام