حیاتِ خالد — Page 416
حیات خالد 411 پاکستان کی قومی اسمبلی میں ما دیا نیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ غلط ہوا ہے“۔(نوائے وقت ۱۹ ستمبر ۱۹۷۴ء ) ہم چاہتے ہیں کہ اس سلسلہ میں ہم اُس وقت کچھ لکھیں جب تاریخ اس راز سے خود پردہ اٹھا دے اور انشاء اللہ العزیز یہ پردہ اُٹھ کر رہے گا۔ساری دنیا جانتی ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ میرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے اسلام کی اس زمانہ میں بے مثال خدمت کی ہے۔اپنوں اور بیگانوں نے تحریری طور پر اس کا اعتراف کیا ہے۔علماء نے آپ پر اور آپ کے ماننے والوں پر سالہا سال سے کفر کے فتوے لگا رکھے ہیں۔مگر جماعت احمد یہ ترقی کرتی گئی اور الہی سنت کے مطابق احمدی بڑھتے گئے اور علماء کے فتوے بے اثر ثابت ہو گئے۔تب اشتعال انگیزی کے ذریعہ حکومت کو مجبور کیا گیا کہ وہ احمدیوں کے خلاف فتوی کفر دے چنانچہ قومی اسمبلی کی کارروائی شروع کی گئی۔اسمبلی سے یہ فیصلہ طلب کر کے علماء نے اعتراف کر لیا کہ ان کے اپنے فتوے احمدیت کی ترقی کو روک نہیں سکے۔پھر جو فیصلہ ہوا ہے اس میں یہ اقرار تو کر لیا گیا کہ :- ہم جو چودہ سو سال سے آسمانوں سے عیسی بنی اللہ کے منتظر تھے اور زمین سے الامام المہدی جیسے عظیم مصلح کیلئے چشم براہ تھے وہ ہماری غلطی تھی۔وہ پیشگوئیاں درست نہ تھیں۔اگر ذرا بھی غور کیا جائے تو یہ صورت حال تحریک احمدیت کی عظیم فتح ہے۔بہر حال قومی اسمبلی کی کارروائی بھی انشاء اللہ تعالی آخر کار حق کی تائید کا ایک بڑا نشان ہے گی۔وَ عَلَى اللهِ التَّكَلانُ نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ - (ماہنامہ الفرقان ستمبر ۱۹۷۵ء صفحه ۴ تا ۶ ) قومی اسمبلی کی کارروائی کے ضمن میں ۸ ستمبر ۱۹۷۵ء کے نوائے وقت لاہور میں ایک خبر شائع ہوئی۔حضرت مولانا نے اس کا فوری نوٹس لیا اور ستمبر ۱۹۷۵ء کے شمارے میں اس پر تبصرہ بھی کر دیا۔قومی اسمبلی کی کارروائی کو اغلاط سے پاک کرنے کا سوال کارروائی کو اصل حالت میں شائع کرنے کا مطالبہ مدیر نوائے وقت " لا ہور لکھتے ہیں کہ :- قومی اسمبلی کے آزاد رکن مولانا ظفر احمد انصاری نے یہ انکشاف کیا تھا کہ قادیانیوں کے مسئلہ پر خصوصی کمیٹی کی طرف سے ۹۶ گھنٹے تک غور کرنے کے دوران میں ٹیپ ریکارڈ کی جانے والی تمام کا روائی کو با قاعدہ ریکارڈ میں منتقل کرنے کی ، اس کی تصحیح اور اس کو اخلاط