حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 398 of 923

حیاتِ خالد — Page 398

حیات خالد 391 اہم شخصیات سے ملاقاتیں نہیں آتا لیکن آج آپ نے اپنا نام اللہ دتا بتایا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ حضرت مولانا نے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ میرا معروف نام تو ابو العطا ء ہی ہے لیکن اچانک مجھے خیال آیا کہ شاہ صاحب کا نام عطاء اللہ ہے۔کہیں ابوالعطاء کا لفظ سن کر ان کے دلی جذبات کو ٹھیس نہ لگے۔بس اسی وجہ سے میں نے اپنا پرانا نام ان کو بتا دیا! واقعہ بظاہر معمولی سا ہے لیکن حضرت مولانا کے دل کے مقدس جذبات، حسنِ نیت اور دوراندیشی کی ایک روشن مثال ہے۔ایڈیٹر المنبر انکور مولوی عبدالرحیم صاحب اشرف سے ملاقات ایڈیٹر المنمر لائل پور مولوی عبدالرحیم صاحب اشرف سے ملاقات کا تذکرہ حضرت مولانا ابو العطاء صاحب نے الفرقان میں ان الفاظ میں فرمایا :- مورخہ 9 جولائی ۱۹۷۵ء بروز بدھ ہمیں لائل پور جانے کا موقعہ میسر آیا۔خاکسار کے علاوہ مکرم مسعود احمد خان صاحب دہلوی ایڈیٹر الفضل، مکرم مولوی نور محمد نیم سیفی صاحب ایڈیٹر تحریک جدید اور عزیزم مولوی محمد الدین صاحب مربی سلسلہ عالیہ احمد یہ بھی تھے۔اس سفر میں ہمیں جناب ایڈیٹر صاحب المنبر مولوی عبد الرحیم صاحب اشرف سے بھی ملاقات کا موقعہ ملا۔اشرف صاحب وسط ۱۹۷۳ء میں ربوہ آئے تھے وہ گاہے بہ گا ہے ربوہ آتے رہتے تھے۔۱۹۷۳ء کی آمد کے موقع پر ان کی ملاقات سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ بنصرہ العزیز سے بھی ہوئی تھی۔اس موقع پر ہم نے انہیں مدیران جرائد کی طرف سے بیت العطاء میں ایک دعوت بھی دی تھی اور اس دوران ان سے خوب گفتگو بھی ہوئی تھی۔۱۹۷۴ء کے حالات میں اشرف صاحب نے احمدیت کے بارے میں نہایت معاندانہ رویہ اختیار کیا اور احمدیوں کے مقاطعہ ( کی تلقین کی ) اور ان سے بات چیت تک کو نا جائز قرار دیا اور اپنے اخبار میں اس کی بار بار اشاعت کی۔اندر میں حالات خیال تھا کہ شاید اب ان سے ملاقات مشکل ہو۔مگر عزیزم شیخ عبداللطیف صاحب مولوی فاضل تاجر لا کپور نے جو ملاقات کے موقعہ پر ہمارے ہمراہ تھے بتایا کہ اشرف صاحب ان سے ملتے رہتے ہیں۔بہر حال ہم پانچ : بجے کے قریب اشرف صاحب کی کوٹھی پر گئے۔تو وہ حسب سابق اسی طرح خوش آمدید کہتے ہوئے ملے جیسا ان کا پہلے دستور تھا۔انہوں نے چائے کا اہتمام فرمایا اور قریباً گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ تک ہم سے گفتگو