حیاتِ خالد — Page 387
حیات خالد 380 اہم شخصیات سے ملاقاتیں جناب خواجہ ناظم الدین صاحب سے تاریخی ملاقات وزیر اعظم پاکستان جناب خواجہ ناظم الدین صاحب سے مولانا موصوف کی ملاقات جماعت احمدیہ کے وفد کے ہمراہ ہوئی۔اس وقت جماعت کے خلاف شورش کا آغاز ہو چکا تھا اور اس ملاقات کا مقصد وزیر اعظم موصوف کو جماعت احمدیہ کے موقف سے آگاہ کرنا تھا۔اس ملاقات کی تفاصیل حضرت مولانا نے الفرقان کے شمارہ نومبر ۱۹۷۰ء میں بطور اداریہ شائع کرتے ہوئے فرمایا : - ۱۹۵۲ء میں فسادات پنجاب کا آغاز ہو چکا تھا ، جماعت احمدیہ کے خلاف ہنگامے شروع تھے، علماء کے وفود وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین صاحب مرحوم سے مل کر جماعت کے بارے میں مختلف غلط فہمیاں پیدا کر رہے تھے، جماعت کو ختم نبوت کا شکر ٹھہرایا جار ہا تھا اور اس غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبے ہو رہے تھے۔سیدنا حضرت امام جماعت احمد یہ خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ایک وفد تجویز فرمایا جو کراچی جا کر وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین صاحب سے ملاقات کرے اور حقیقت حال سے انہیں مطلع کرے۔اس وفد میں (۱) جناب مولوی عبد الرحیم صاحب در دایم اے ناظر امور عامه ربوہ، (۲) جناب مولانا جلال الدین صاحب شمس (۳) جناب شیخ بشیر احمد صاحب سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ لاہور (۴) جناب ملک عبدالرحمن صاحب خادم ایڈووکیٹ گجرات اور (۵) خاکسار ابوالعطاء جالندھری شامل تھے۔جناب مودودی صاحب سے ملاقات ہم سب محترم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کی کوٹھی ٹمپل روڈ لاہور پر جمع ہوئے۔پہلے دن کراچی کے لئے ریل میں سیٹیں ریزرو نہ ہو سکیں ہمیں ایک رات لاہور میں قیام کرنا پڑا۔شام کے وقت صوفی عبدالرحیم صاحب نے محترم شیخ بشیر احمد صاحب کو فون کیا کہ آج جناب مودودی صاحب سے ملاقات ہو سکتی ہے اگر چاہیں تو آجا ئیں۔جناب شیخ صاحب موصوف ، جناب مولانا جلال الدین صاحب شمس مرحوم اور خاکسار بذریعہ کار جناب مودودی صاحب کے مکان پر پہنچ گئے۔وہ گو یا ملاقات کے لئے تیار ہی بیٹھے تھے۔کہنے لگے کہ اچھا ہوا کہ آپ لوگ آگئے میں چاہتا ہی تھا کہ جماعت احمدیہ کے کوئی نمائندے مل جائیں تو میں آپ کے امام کو ایک پیغام بھجواؤں۔ہم نے کہا کہ فرمائیے کیا پیغام ہے؟