حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 365 of 923

حیاتِ خالد — Page 365

سفر ایران (۲۸ جون تا ۲۶ جولائی ۱۹۷۶ء) ملک ایران کو اپنے محل وقوع کے لحاظ سے بھی بڑی اہمیت حاصل ہے اور مذہبی ایران کی اہمیت طور پر تو اس کی اہمیت بہت نمایاں ہے۔اس وقت وہ اسلامی مملکت ہے وہاں کی اکثریت مسلمان کہلاتی ہے۔سیدنا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت روم اور ایران عرب کے سر پر دو بڑی سلطنتیں تھیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح روم کے سر براہ قیصر صلى الله کو اسلام کی دعوت دی اسی طرح حضور ﷺ نے ایران کے بادشاہ کسری کو بھی پیغام اسلام پہنچایا۔ایرانیوں نے مقابلہ کیا اور کچھ معرکوں کے بعد ایران بھی اسلامی سلطنت میں شامل ہو گیا۔اسلام کے دور اول میں محدثین، اولیاء، مؤرخین ،متکلمین ، اہل لغت اور مفسرین کی ایک بڑی جماعت ایران کی سرزمین سے تعلق رکھتی رہی ہے۔ان لوگوں نے اسلام کی بے بہا خدمات سرانجام دی ہیں۔ان بزرگوں کی وجہ سے ایران کو اسلامی تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔حضرت سلمان فاری ایک مشہور صحابی گزرے ہیں جن کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اگر ایمان ثریا پر بھی جا چکا ہو گا تب بھی ایک فارسی الاصل اسے آسمان سے زمین پر لے آئے گا۔اس لحاظ سے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ سے ایران کا خاصہ تعلق ہے۔سرزمین ایران میں اہل بیت نبوی اور امت کے دیگر بہت سے بزرگوں کی قبریں اور مزار بھی موجود ہیں۔غرض ایران کو اسلامی نقطہ نظر سے بہت اہمیت حاصل ہے۔فارسی زبان کو عربی زبان کے بعد اسلامی مسائل ، دینی حقائق اور معارف کی حفاظت کیلئے دوسرا درجہ حاصل ہے۔گزشتہ صدی میں شیعوں کے فرقہ شیخیہ میں بابی تحریک پیدا ایران میں بابی اور بہائی تحریک ہوئی۔جوملک کے امن کو بر بادکرنے والی ثابت ہوئی۔علماء شیعہ نے اپنے فتووں کے ذریعہ اور حکومت نے اپنے اختیارات کے ذریعہ اس شر پسند تحریک کا مقابلہ کیا۔ایران سے یہ تحریک عراق، ترکی، اور شام منتقل ہو گئی۔اس تحریک کی علیحد ہ تاریخ ہے۔یہ تحریک قرآن مجید کو منسوخ قرار دینے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فیض رسانی کو منقطع قرار دینے کے نظریہ پر مبنی ہے۔احمد یہ تحریک اس کے سراسر مخالف ، قرآن مجید کو محکم اور دائی شریعت ثابت کرنے