حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 364 of 923

حیاتِ خالد — Page 364

حیات خالد 364 ممالک بیرون کے اسفار کا ؤنٹری کے احباب جماعت نے افطاری کا انتظام کیا ہوا تھا اس موقعہ پر مختصر تربیتی تقریر بھی ہوئی اور استفسارات کے جواب بھی دیئے۔رات کو ہم نکن میں محترم چوہدری عبدالغفور صاحب کے ہاں قیام کیا۔عزیزم محمد صالح صاحب عودہ بھی ہمراہ تھے۔(۴) ۲ اکتوبر کو دو سنگ مسجد دیکھنے کیلئے گئے۔صاحبزادہ مرزا او سیم احمد صاحب ، مکرم مولوی کرم الہی ظفر صاحب ، مکرم محمد صالح صاحب اور عزیزم عبد الوہاب بن آدم بھی ہمراہ تھے۔اب یہ مسجد غیر احمدی ٹرسٹ کے ماتحت ہے۔مسجد کے امام خواجہ قمر الدین صاحب مقرر ہیں۔ان سے مختصر مذہبی گفتگو ہوئی۔وہ پاکستانی علماء کی تنگ دلی اور فتووں سے بہت ڈرتے تھے۔(۵) ۱۸ اکتوبر کو محترم امام صاحب کے ساتھ مشن کی کار میں برمنگھم گئے۔عزیزم خواجہ منیر الدین شمس صاحب شاہد اور عزیزم محمد اسلم صاحب جاوید بھی ساتھ تھے۔احباب جماعت کافی تعداد میں جمع تھے محترم جناب امام بشیر احمد خان صاحب رفیق کی صدارت میں جلسہ ہوا۔خاکسار نے تقریر کی بعض سوالات کے جوابات بھی دیئے۔صدر صاحب نے صدارتی تقریر میں شمس صاحب کا تعارف بھی کرایا جو تھوڑا عرصہ قبل ہی انگلستان میں بطور مبلغ آئے ہیں۔آپ حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کے فرزند ہیں۔رات کو ایک بجے برمنگھم سے واپسی ہوئی۔(۲) مورخه ۲۰ راکتو بر جماعت احمدیہ ہنسلو لندن کے زیر اہتمام ایک گرجا گھر کے ہال میں جلسہ عام مقرر تھا۔اشتہار بھی شائع کیا گیا۔شام پانچ بجے خاکسار نے زندہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان پر چالیس منٹ تک تقریر کی۔مکرم عبداللطیف خان صاحب جلسہ کے صدر تھے سوالات کا موقعہ بھی دیا گیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھا اثر ہوا۔الحمد للہ۔جلسہ کے بعد اسی جگہ افطاری کا بھی انتظام تھا۔(۷) اس عرصہ قیام میں بعض عربوں سے بھی مذہبی گفتگو کے موقعے ملتے ہے۔(۸) رمضان المبارک میں درس القرآن کا جماعتی انتظام ہوتا ہے۔ہفتہ اور اتوار دوروز عصر سے مغرب تک احباب بکثرت مشن کے محمود ہال میں جمع ہو جاتے ہیں اور درس قرآن کریم ہوتا ہے۔محترم امام صاحب کی فرمائش پر اس مرتبہ مجھے بھی متعدد ایام درس قرآن کریم کا موقعہ ملا۔خاکسار نے حضرت ابراہیم کے حالات پر مشتمل آیات کا دودن درس دیا نیز چار پانچ روز میں سورۃ نور کا درس مکمل کیا۔ایک جمعہ کو بعد نماز جمعہ خواتین کیلئے مسجد فضل لندن میں سورۃ التحریم کا درس دیا۔رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ (ماہنامہ الفرقان۔ربوہ جنوری ۱۹۷۴ء صفحه ۴۳ تا ۴۶)