حیاتِ خالد — Page 357
حیات خالد 357 ممالک بیرون کے اسفار کیلئے ایک وسیع پنڈال تیار کیا گیا تھا جس کیلئے سائبان ایک ہندو صاحب نے مہیا کئے تھے۔اس وسیع پنڈال کو دیکھ کر خیال ہوتا تھا کہ یہ کیسے بھر سکے گا۔جلسہ کا پروگرام مرتب کیا گیا۔دو دنوں میں چارا جلاس رکھے گئے۔پہلا اجلاس دونوں دن ۹ بجے شروع ہوا جو حاضرین کے سوالات کے جوابوں کیلئے مخصوص ہوتا تھا۔دوسرا اجلاس ہر روز اڑھائی بجے سے چھ بجے شام تک ہوتا رہا اس میں مفصل تقاریر ہوتی تھیں۔ان سارے اجلاسوں میں ایسے انہماک اور توجہ سے حاضرین نے تقاریر کو سنا جس سے بہت خوشی ا ہوئی۔حاضرین میں ہندو بھی بکثرت تھے۔حاضرین کی تعداد تین ہزار سے بھی زیادہ تھی۔تیار کردہ پنڈال پر ہو جانے کے بعد مزید توسیع کی گئی پھر بھی کچھ لوگوں کو باہر کھڑے ہو کر سننا پڑا۔جناب مولوی محمد صاحب، جناب احمد توفیق صاحب چوہدری، جناب مولوی احمد صادق صاحب، جناب مولوی محب اللہ صاحب اور خاکسار نے تقاریر کیں ، سوالوں کے جواب دیئے۔باقی احباب نے بنگلہ میں اور میں نے اُردو میں تقریریں کیں۔میری تقریروں کا بنگلہ میں ترجمہ کر دیا جاتا تھا۔بنگلہ اور اردو کی نظمیں بھی پڑھی گئیں۔سامعین اخیر تک ہمہ تن گوش سنتے رہے۔احمد تو فیق صاحب اور مولانا محمد صاحب کی بنگلہ کی فصاحت و روانی کو بہت پسند کیا گیا۔فضیلت اسلام کے سلسلہ میں بانیان مذاہب کے احترام کی اسلامی تعلیم پر ہندو صاحبان بہت خوش تھے۔کرشن جی کے متعلق جماعت احمدیہ کے نقطہ نگاہ کو بہت پسند کیا گیا۔ہیڈ پنڈت اوبی ناس چندر نے تو کھلے بندوں اعتراف کیا کہ در حقیقت کرشن جی کی عزت اسی عقیدہ سے ثابت ہوتی ہے جو جماعت احمدیہ کا عقیدہ ہے ورنہ عام ہندوؤں نے تو کرشن جی کو ایک تماشہ بنا دیا ہے۔سوالات کے وقت ہندوؤں اور مسلمانوں سب نے مختلف قسم کے سوال کئے جن کے واضح اور مدلل جواب دیئے گئے جس سے بہت دلچسپی پیدا ہو گئی۔اللہ تعالی کے فضل سے یہ جلسہ ہر پہلو سے کامیاب رہا۔وَاللهِ لَحَمْدُ۔جلسہ کے دوسرے دن محترم جی۔ایم علیم الدین آف کھلنا نے بنگالی ایک غیر احمدی شاعر کی نظم زبان میں اپنی ایک تازہ نظم پڑھ کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔جب شاعر جھوم جھوم کر نظم پڑھ رہا تھا تو حاضرین کے چہروں پر شگفتگی کھیل رہی تھی۔اس بنگالی نظم کا ترجمہ میں نے عزیز محمد انیس الرحمن صاحب صادق بنگالی متعلم جامعہ احمدیہ سے کرایا ہے جو حسب ذیل ہے۔(1) "آج سندر بن سندر (خوبصورت) ہو گیا ہے۔اور خزاں رسیدہ درختوں پر پھول کھلے ہیں۔ان کی خوشبو سے تمام علاقہ مہک گیا ہے۔کس کے اشارے سے اس بیابان میں ہزاروں پھول کھلے ہیں۔سندر بن کے درختوں میں بہار کی وجہ سے پھول کھلے ہوئے ہیں۔