حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 338 of 923

حیاتِ خالد — Page 338

حیات خالد 337 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام پروفیسر محمد سلطان اکبر صاحب صدر شعبه عربی گورنمنٹ تعلیم الاسلام کا لج ربوہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی عربی زبان میں مہارت کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:۔خاکسار کو حضرت مولانا مرحوم سے شرف تلمذ قادیان سے ہجرت کے بعد جامعہ احمدیہ میں چنیوٹ اور پھر احمد نگر میں حاصل رہا اور بڑے قریب سے آپ کو دیکھنے اور آپ سے استفادہ کا موقع ملا۔بہت ہی شفیق ، فیس لکھ ، عالم بے بدل اور فاضل اجل استاد تھے۔تقریر عربی میں ہو یا اردو میں یکساں روانی اور فصاحت کا ایک دریا موجزن ہوتا تھا۔عربی انشاء پردازی کے سلسلے میں ہم طلباء جب بھی آپ سے امتحانی نقطہ نظر سے کسی بھی موضوع پر عربی مضمون لکھوانے کیلئے عرض کرتے تو آپ فورا اسی وقت کلاس میں بغیر کسی تیاری کے ایسا بلند پایہ فصیح و بلیغ مضمون عربی زبان میں لکھوا دیتے کہ مضمون کیا ہوتا، موتیوں سے پروئی ہوئی لڑی کی طرح با رابط خوبصورت الفاظ کا ایک مرقع ہوتا۔نفس مضمون بھی جامع خیالات کا حامل اور الفاظ کا لبادہ بھی بہت ہی حسین اور دلربا ہوتا۔حتی کہ جامعہ کے اس دور کے دوسرے اساتذہ کرام جو کہ خود بھی بہت قابل استاذ تھے وہ بھی حضرت مولانا مرحوم کے اس فی البدیہہ انداز کی ہم طلبہ کے سامنے بے حد تعریف کرتے اور کہتے کہ ایسا کرنا ہر انسان کا کام نہیں۔باقی اساتذہ کرام گھر پر پہلے خود مضمون لکھ کر اس کی نوک پلک ٹھیک کر کے پھر لکھوایا کرتے تھے۔موقع پر ہی فوراً مضمون لکھوا د بینا یہ آپ ہی کا کمال تھا۔محترم صوفی بشارت الرحمن صاحب ایم اے مرحوم جو تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں سالہا سال صدر شعبہ عربی رہے۔اور وکیل التعلیم تحریک جدید اور صدر مجلس کار پرداز رہے۔آپ نے بیان فرمایا : - میں قادیان میں ساتویں آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا اس وقت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب بلا دعر بیہ میں کام کرتے تھے۔ہماری جماعت کے بڑے مناظر اور لیکچرار کے طور پر ان کی شہرت تھی۔جب مولانا ابوالعطاء صاحب بلاد عربیہ سے واپس تشریف لائے تو اس وقت انہیں اچھی طرح دیکھنے کا موقع ملا۔جب مولوی صاحب فلسطین سے تشریف لائے تو آپ کا رنگ سرخ و سفید تھا۔بڑی اچھی صحت تھی۔آپ عربی اتنی فصاحت کے ساتھ بولتے تھے کہ جب تعلیم الاسلام سکول اور دوسرے اداروں نے آپ کو واپس آنے پر خیر مقدمی دعوتیں دیں تو ان کی عربی کی روانی دیکھ کر ہم حیران رہ گئے۔