حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 330 of 923

حیاتِ خالد — Page 330

حیات خالد 329 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام امیر المومنین بنفس نفیس اسٹیشن پر موجود تھے۔گاڑی کا اللہ اکبر کے نعروں سے استقبال کیا گیا۔مولوی صاحب گاڑی کے دروازے میں بیتا بانہ صورت میں کھڑے تھے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کو دیکھے کر ان کی حالت بیتابی اور بڑھی اور چاہتے تھے کہ چلتی ٹرین سے ہی اُتر کر اپنے سید و مولیٰ کے دست بوس ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ حضور کے خدام کو جو تعلق حضور سے اور پھر اپنے متعلق ہر شخص کا یہی خیال ہے کہ وہ ادنیٰ سے ادنیٰ درجے کا خادم ہے۔پس ایک خادم جب اپنے آپ کو دیکھتا ہے اور پھر حضرت امیر المومنین کے بلند و بالا مقام کو علی وجہ البصیرت دیکھتا ہے اور پھر دیکھتا ہے کہ حضور اپنے خادم کی عزت افزائی کے لئے بنفس نفیس موجود ہیں تو اس خادم کا دل پانی بن جاتا ہے اور جذبات اور احساسات کا ایک بحر بیکراں اسے گھیر لیتا ہے۔اور وہ اپنے وجود میں کھویا جاتا ہے اور اس وقت اس کے خیالات کی ترجمانی صرف آنسو ہی کر سکتے ہیں۔یہی حالت اس وقت مولانا کی تھی۔حضور بھی جوش محبت میں اس کمرے کی طرف بڑھے۔مولانا نے اُتر کر حضور کے ہاتھوں کو بوسے دیئے۔حضور نے اپنے خادم کو گلے سے لگایا اور مصافحہ کا شرف بخشا۔اپنے دست مبارک سے ہار مولوی صاحب کے گلے میں ڈالے۔بعد میں حضور نے موقع دیا کہ دوسرے دوست بھی مل لیں۔اسٹیشن پر مبلغین بھی باور دی کھڑے تھے۔سب نے مولانا سے مصافحہ کیا۔سالار جیش اپنی کوروں کو لے کر موجود تھے۔مولانا نے ممبران کو ر سے مصافحہ کیا۔جماعت کا اتنا بڑا اجتماع تھا کہ یہ پہلا موقعہ تھا۔سینکڑوں دوست بغیر مصافحہ کے رہ گئے وہ صرف اپنے محترم مجاہد کو دیکھ سکے اور السلام علیکم کہہ سکے۔ملاقاتوں کے سلسلہ سے فراغت حاصل کر چکنے کے بعد حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ نے اپنے خادم کو اپنے ساتھ موٹر میں بٹھایا اور شہر میں لے آئے جہاں انہوں نے دو رکعت نفل ادا کئے۔مدرسہ احمدیہ، جامعہ احمدیہ، مدرسہ تعلیم الاسلام اور مبلغین سلسلہ کی طرف سے پارٹیاں دی گئیں۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ نے بھی ایک دعوت قصر خلافت میں حضرت مولانا شیر علی صاحب اور مولوی ابو العطاء صاحب کے اعزاز میں کی۔الحکم قادیان ۲۸ فروری و ۷ / مارچ ۱۹۳۶ء)