حیاتِ خالد — Page 328
حیات خالد 327 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام جار ہے ہیں۔اور دیکھو انہیں سو سال کے بعد پھر فلسطین کی وادی میں من انصاری الی اللہ کی آواز سنائی دی گئی۔دیکھو سنو قوموں میں ایک شور ہے، ہر ایک قوم نیند سے اس طرح بیدار ہو رہی ہے گویا کہ عالم حشر ہے اور ایک زلزلہ ہے، قبریں پھٹ رہی ہیں اور صدیوں کے مردے شہروں میں آ رہے ہیں جو گزشتہ نوشتوں کے متعلق گواہی دے رہے ہیں۔الغرض گزشتہ زمانے کی یاد پھر تازہ ہو رہی ہے۔یہی نہیں کہ انصار اللہ کے قیام سے ایک خاص جماعت تبلیغ کے لئے پیدا ہوگئی بلکہ ہر ایک احمدی میں تبلیغ کا اپنے اپنے رنگ میں جوش ہے۔اور وہ بھی ہندوستانی احمدیوں کی طرح یوم تبلیغ کو اپنے اپنے کاروبار بند کر کے سارا سارا دن تبلیغ کرتے ہیں۔یہ حیرت انگیز تبدیلی مبلغ کی زبر دست سعی کا نتیجہ ہے۔یہ اندرونی تنظیم اور تبلیغ کا کام ہے جو ہمارے مبلغ نے کیا۔مبلغ کی زندگی ایک عجیب قسم کی زندگی ہوتی ہے۔کہیں وہ غیروں میں مبلغ ہوتا ہے اور کہیں اپنوں میں مربی ہوتا ہے اور کہیں دشمنوں کے مقابل پر صف شکن ہوتا ہے اور کہیں اپنے قلعوں کی تعمیر میں بطور معمار کے ہوتا ہے اس کے کاموں کی مختلف نوعیتیں ہوتی ہیں۔چنانچہ ہمارے مبلغ جو بلاد عربیہ میں جاتے ہیں ان کو اس امر کا خاص احساس ہوتا ہے کہ وہ اس قدر عربی زبان میں مقدرت حاصل کریں کہ جس سے کسی شخص کو خواہ وہ کتنا بڑا اہل لسان ہو اعتراض کرنے کا موقع میسر نہ آسکے۔چنانچہ آپ اصلاح تربیت اور بیرونی حملوں سے کچھ وقت بچا کر مطالعہ اور درس و تدریس کے کام کو بھی جاری رکھتے ہیں۔مولانا ابوالعطاء نے اس سے بھی ایک قدم اور آگے رکھا۔فلسطین میں یہودی اور عبرانی کی تعلیم عیسائی بکثرت پائے جاتے ہیں۔سومولانا نے انہیں تبلیغ کے نقطہ خیال سے یہ ضروری خیال کیا کہ اس زبان کی تکمیل و تحصیل کی جائے جو حضرت مسیح کی اپنی زبان تھی۔تا کہ پرانے نوشتوں کو ان کی اصلی زبان میں پڑھا جا سکے اور یہودی قوم کو ان کی زبان میں پیغام دعوت دیا جا سکے۔الغرض اس کیلئے بعض یہودی معلموں کو تنخواہ دے کر مولانا نے عبرانی زبان سیکھی اور اس پر کافی عبور حاصل کیا۔فلسطین کی جماعت کی مرکز سے ہمیشہ کی وابستگی کے لئے ہمارے مبلغ نے ایک عظیم الشان کام ایک شاندار کام یہ کیا کہ ایک بہت بڑا قطعہ زمین وہاں کی جماعت سے لے کر صدر انجمن احمدیہ کے نام وقف کرا دیا۔آج اس کام کی قیمت ممکن ہے کہ اتنی نہ سمجھی جائے لیکن وقت آئے گا کہ یہ عظیم الشان کام اپنی اہمیت کو خود ظاہر کر دے گا۔اس ایک کام کی وجہ سے وہاں کی جماعتوں کو مرکز سلسلہ کے ساتھ شدید وابستگی رہے گی۔