حیاتِ خالد — Page 315
حیات خالد 314 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام اسی زمانہ میں جب میں فلسطین میں تھا۔(۱۹۳۱ء تا ۱۹۳۶ء) ۲ کشمیر دور ہے یا آسمان؟ ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ اس شہر کے چند کول ماسٹر ملنے کے لئے میرے پاس کہا بیر میں تشریف لائے۔کہا بیر جبل کرمل پر حیفا کے نزدیک ایک گاؤں ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سارا ہی احمدی افراد پر مشتمل ہے۔اس جگہ جماعت احمدیہ کا مرکز ہے، کہد ہے، مدرسہ ہے مسجد اور اسی جگہ سے ماہوار رسالہ البشری اس زمانہ میں جاری تھا۔مسجد کے ساتھ میں نے ایک حجرہ بھی مبلغ کے لئے تعمیر کرایا تھا۔اور جن دنوں میں کہا بیر میں ہوتا تھا تو میری رہائش اسی کمرہ میں ہوتی تھی۔نابلس کے یہ اساتذہ ملنے کے لئے اسی کمرہ میں تشریف فرما تھے اور اس وقت اس کمرہ میں چند احمدی احباب بھی موجود تھے۔جن میں حضرت الشیخ علی القزق " بھی تھے۔یہ صوفی مشرب بوڑھے احمدی تھے پہلے فرقہ شاذلیہ میں داخل تھے زیادہ پڑھے لکھے نہ تھے مگر بڑے دیندار اور زیرک تھے۔نابلسی اساتذہ میں سے ایک نے جب کہ میں ابھی ان کے لئے قہوہ تیار کر رہا تھا۔دریافت کیا کہ کیا آپ حضرت مسیح کو وفات یافتہ مانتے ہیں۔میں نے کہا ہاں قرآن مجید سے یہی ثابت ہے۔اس پر انہوں نے ساداطریق پر پوچھا کہ پھر ان کی قبر کہاں ہے۔میں نے جواب دیا کہ ان کی قبر کشمیر ہندوستان میں ہے۔اس استاد نے جھٹ سوال کر دیا کہ حضرت مسیح تو فلسطین میں تھے کشمیر میں اتنی دور وہ کس طرح چلے گئے اور وہاں ان کی قبر بن گئی؟ اس سوال کا میں ابھی جواب دینے نہ پایا تھا کہ مرحوم الشیخ علی القزق نے اسی استاد کو مخاطب کرتے ہوئے جھٹ پٹ کہ دیا کہہ یا أُسْتَاذُ هَلْ كَانَتْ بِلادُ الْكَشَامِرَةِ ابْعَدُ مِنَ السَّمَاءِ اے استاد! کیا کشمیر کا ملک آسمان سے بھی دور ہے؟ ان کی مراد یہ تھی کہ آپ لوگ حضرت عیسی کا آسمان پر جانا تو تسلیم کر لیتے ہیں مگر کشمیر جانے پر اس لئے تعجب کر ر ہے ہیں کہ وہ دور کا علاقہ ہے حالانکہ کشمیر بہر حال زمین پر ہے اور آسمان سے دور نہیں ہے۔اس جواب کا سننا تھا کہ تمام استاد عش عش کرنے لگے اور کہنے لگے کہ بہت عمدہ جواب ہے۔ایک نے مجھے کہا کہ آپ نے ان احمدیوں کو خوب پڑھایا ہے۔میں نے کہا کہ اس بارے میں میرے پڑھانے کا ذرہ بھر دخل نہیں۔یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بر وقت جواب سکھایا گیا ہے۔ورنہ مجھے تو خود اس بات کی طرف توجہ بھی نہ تھی۔رہے