حیاتِ خالد — Page 294
حیات خالد 293 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام بات ہے کہ دشمن بھی اس امر کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔سرولیم میور جو کہ اسلام کا ایک بہت بڑا مخالف ہے وہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ یہ وہی قرآن ہے جو کہ محمد (ﷺ) کے زمانہ میں تھا۔(ملاحظہ ہو کتاب حیات محمد ) پس اسلام کی بناء تو اتر ات یقینیہ پر ہے نہ کہ عیسائیت کی طرح چند عام عورتوں کی شہادت پر۔مسیحی: میرے پاس اور کچھ نہیں۔میں نہیں چاہتا کہ اس بارے میں بحث کو زیادہ طول دوں ( گھڑی جیب سے نکال کر ) اب میرے پاس صرف پانچ منٹ باقی ہیں۔احمدی: آپ نے ہی بحث کا دروازہ کھولا تھا جس میں میں داخل ہو گیا اور اب آپ ہی بند کرتے ہیں۔مصر میں جہاں علماء نے پادریوں کے امریکن مشن قاہرہ کے انچارج سے مناظرے اعتراضات سے تنگ آکر حکومت سے درخواست کی تھی کہ پادریوں کو ملک سے نکال دیا جائے۔وہاں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری خدا تعالیٰ کے فضل سے جس کا میابی کے ساتھ تن تنہا پادریوں کا مقابلہ کر کے ان کو شکست دے رہے تھے۔اس کا کسی قدر پہ حضرت مولانا کے ذیل کے مضمون سے لگ سکتا ہے۔ڈاکٹر فیلیبس انچارج امریکن مشن سے دوسرا مناظرہ الوہیت مسیح پر ہوا۔جس میں متعدد دلائل سے اس باطل عقیدہ کا رد کیا گیا۔متعدد غیر احمدی بھی حاضر تھے۔دو تعلیم یافتہ غیر احمدیوں نے آخیر پر ہمیں مبارک باد دی اور پادری صاحب نے ہمارے چلے آنے کے بعد ایک شخص سے کہا کہ در حقیقت قَدْ فَشَلْتُ اليَومَ آج میں ہار گیا۔تیسرا مناظره حسب خواہش پادری مذکور دوباره معصومیت انبیاء ومسیح از روئے بائبل پر ہوا۔اس دن مجمع میں ہیں کے قریب غیر احمدی تھے۔دو گھنٹے تک مناظرہ ہوا۔آخر پادری مذکور کو ایک تحریر دینی پڑی کہ فلاں فلاں نبی کا کوئی گناہ از روئے بائیل ثابت نہیں۔یہ مناظرہ بھی کامیابی سے ختم ہوا۔چوتھا مناظرہ اس موضوع پر ہوا کہ کیا یسوع مسیح صلیب پر فوت ہوئے۔یہ مناظرہ احمد یہ دارالتبلیغ کے وسیع کمرہ میں ہوا۔جس میں ستر سے زائد اشخاص موجود تھے۔ازہر کے تعلیم یافتہ ، وکیل، تاجر اور سرکاری ملازم بھی شریک ہوئے۔ڈاکٹر فيليبس اس دن اپنے ہمراہ دو اور پاور یوں کو مدد کیلئے لائے تھے حسب قرارداد پہلے میں نے نصف گھنٹہ از روئے بائبل ثابت کیا کہ یسوع مسیح صلیب پر ہر گز فوت نہیں ہوئے اور انجیل نویسوں کے بیانات میں بکثرت اختلافات ہیں۔اس کے جواب کیلئے پادری کامل منصور کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ مسلمان تو کہتے