حیاتِ خالد — Page 286
حیات خالد 285 بلاد عر بیہ میں تبلیغ اسلام ہیں ، دو مدرس اور ایک سرکاری ملازم ہیں۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ نئی جماعتیں (۱) موضع ام انجم میں نئی جماعت قائم ہوئی ہے۔اس جماعت میں ایک اچھے مالدار دوست بھی شامل ہیں۔(۲) موضع عارہ میں نئی جماعت قائم ہوئی ہے اس جگہ کے مشہور عالم الشیخ محمد البدی داخل سلسلہ ہوئے ہیں۔(۳) جماعت احمدیہ قاہرہ، برجا، کیا بیرا اور حیفا میں متعد یہ اضافہ ہوا ہے۔اندازہ کیا گیا ہے کہ افراد جماعت اور دار التبلیغ کے ذریعہ دوران سال ڈیڑھ ہزار انفرادی تبلیغ اشخاص کو فردا فردا تبلیغ کی گئی ہے۔بعض معززین کے گھروں پر جا کر تبلیغ کی گئی۔جناب علی فاضل باشا مصری نے جو سوڈان میں فوج کے افسر علی رو چکے ہیں اور علم دوست شخص میں ایک گھنٹہ کی گفتگو کے بعد کہا کہ مولوی صاحب نے مجھ کو نصف احمدی تو بنا لیا ہے۔اس سلسلہ میں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ امسال سلسلہ احمدیہ کے بدترین دشمنوں کو بھی ان کے گھروں پر جا کر پیغام حق پہنچایا گیا۔جن میں سے شیخ رشید رضا ایڈیٹر المنار اور محب الدین الخطیب ایڈیٹر الفتح خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اس طریق کا بھی خاص فائدہ ہو رہا ہے اور نئے احمدیوں کی تقویت کا موجب ہے۔مصری پارلیمنٹ کے ایک ممبر کو تبلیغ کرنے کا بہترین موقعہ ملا اور وہ بہت اچھا اثر لے کر گئے۔دوران سال قریباً ۱۸ با قاعدہ مناظرات ہوئے ہیں۔۱۲ مسلمان علماء سے اور مناظرات 4 پادریوں سے۔علماء سے وفات مسیح، نسخ فی القرآن، ختم نبوت اور صداقت مسیح موعود علیہ السلام پر گفتگو ہوئی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر موقعہ پر کامیابی حاصل ہوئی۔علماء ازہر کے ایک گروہ سے ختم نبوت پر مباحثہ ہوا۔ایک کے بعد دوسرا مناظر بدلا گیا مگر آخر انہیں اپنی عاجزی کا قولاً وفعلاً اعتراف کرنا پڑا اور غیر احمدی سامعین پر بھی بہت اچھا اثر ہوا۔پادریوں سے الاب انستاس الکر ملی سے حیفا میں خاص طور پر قابل ذکر گفتگو ہوئی اور قاہرہ میں امریکن مشن کے انچارج اور ڈاکٹر زویمر کے قائمقام ڈاکٹر فيليبس سے کفارہ کے موضوع پر چار ہفتے مناظرات ہوئے۔ہر مناظرہ میں بفضلہ تعالیٰ خاص کامیابی حاصل ہوئی۔مگر آخری مناظرہ " کیا یسوع مسیح صلیب پر نہیں مرا کے موضوع پر نہایت شاندار مناظرہ ہوا۔اللہ تعالیٰ نے مختصر وقت میں غیر معمولی تاثیر عطا فرمائی۔اس روز ۷۰ اشخاص موجود تھے جن میں وکیل ، علماء اور نو تعلیمیافتہ اور کالجوں کے طلباء بھی تھے۔عیسائیوں کی طرف سے پادری کامل منصور، پادری فیلیبس اور پادری ایلڈ ر باری باری پیش ہوئے اور ہر ایک عاجز آ کر خاموش ہو