حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 195 of 923

حیاتِ خالد — Page 195

حیات خالد 201 مناظرات کے میدان میں ہو گئی۔آخر بہت ردو کر کے بعد فریقین کا سمجھوتہ اس بات پر ہوا کہ اس شرط کے خلاف شریعت ہونے کا تصفیہ آٹھ گھنٹہ مناظرہ کے معابعد ہوگا اور دونوں طرف سے اس تحریر پر دستخط ہو گئے۔" ہم دونوں فریق جماعت احمدیہ و اہلسنت والجماعت اس وقت آٹھ گھنٹہ تک مناظرہ شروع کرتے ہیں۔مباہلہ کی شرط نمبر ۵ کا تصفیہ از روئے شریعت مناظرہ کے بعد ہو گا علی الفور - شرط نمبر ۵ میں جو یہ بیان ہے کہ اگر دونوں فریقوں پر عذاب نہ آئے تو احمدی جھوٹے ہوں گے یہ حصہ شرط نمبر ۵ جماعت احمدیہ کے نزدیک خلاف شریعت ہے اس لئے وہ اسے تسلیم نہیں کرتے اور اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہیں۔مندرجہ بالا تحریری فیصلہ کے بعد مناظرہ ہوا اگر چہ از روئے شرائط ہر مناظرہ کے مختصر کوائف ایک تقریر کیلئے نصف نصف گھنٹہ مقرر تھا لیکن مولوی لال حسین کے کہنے پر میں نے مان لیا کہ پہلی ایک ایک تقریر آدھ آدھ گھنٹہ کی ، دوسری میں ہیں منٹ ، تیسری پندرہ پندرہ منٹ اور پھر آخر تک ہر تقریر دس دس منٹ ہوگی۔مناظرہ نماز اور کھانے کے وقفوں کے باعث تین حصوں میں تقسیم ہو کر قریبا ۱۲ بجے شب ختم ہوا۔پہلے اجلاس میں غیر احمدیوں کی طرف سے جناب سردار غلام حسین خان صاحب پریذیڈنٹ تجویز ہوئے اور میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ سردار صاحب موصوف نے باحسن وجوہ فرائض صدارت سر انجام دیئے۔وقت وغیرہ کی تقسیم میں کوئی اور عائت نہیں کی اور نہ کسی مناظر کو دائرہ تہذیب سے نکلنے دیا۔غالباً اسی لئے دوسرے دونوں اجلاسوں میں آپ کو صدر نہ بنایا گیا۔آٹھ گھنٹہ کے مناظرہ میں اللہ تعالی کے فضل سے اس نے کونوا یاں کامیابی حاصل ہوئی۔دلائل کی نمایاں۔رو سے، اخلاقی اور علمی طور پر ، روحانی رنگ میں احمدیت کو پورا غلبہ حاصل ہوا۔میں یہ نہیں کہتا کہ مولوی لال حسین ان مناظرات خصوصاً درمیانی مناظرہ میں بدتہذیبی نہیں کر سکا ، گالیاں نہیں دے سکا ، استہزاء نہیں کر سکا، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت کے ادھورے اقتباسات پیش کر کے سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش نہیں کر سکا۔وہ یہ سب کچھ کرتا رہا۔ہاں جو بات وہ نہیں کر سکا وہ دلائل کا جواب دلائل سے علمی باتوں کا جواب علمی باتوں سے، روحانیت کا مقابلہ روحانیت سے۔ہاں وہ اخلاقی معیار پر بھی قائم نہیں روسکا۔اس عرصہ مناظرہ میں میں نے وفات مسیح علیہ السلام، امکان نبوت غیر تشریعی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر قرآن مجید اور احادیث نبویہ سے چالیس کے قریب دلائل پیش کئے جن کا کوئی معقول جواب فریق مخالف کی طرف سے نہ دیا گیا اور غیر احمدی مناظر