حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 192 of 923

حیاتِ خالد — Page 192

حیات خالد 198 مناظرات کے میدان میں تیرے بندے راہ راست پر آویں اور اگر مرزا غلام احمد مذکور اپنے مذکورہ بالا دعوئی و اعتقادات میں کا ذب ہے یعنی کہ نہ وہ مہدی موعود ہے نہ مسیح موعود نہ حقیقی نبی ہے تو جماعت احمد یہ فریق مباہلہ کے افراد حاضرہ پر عبرتناک عذاب یا عبرتناک مرض یا حقیقی رسوائی وذلت یا موت نازل و وارد فر ما تا کہ تیری پیاری مخلوق و عزیز بندے عبرت حاصل کر کے گمراہی و ضلالت سے بیچ کر راہ مستقیم حاصل کریں اور حق و باطل کا فیصلہ ہو۔آمین الفاظ دعا منجانب مباہلین جماعت احمدیہ ہم جماعت احمدیہ کے مبالمین خداوند قدیم و قدیر، عالم الغیب وغیور و قہار کو حاضر ناظر اور برحق جان کر صدق دل سے اس کے جلال کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمام امکانات سے تحقیق کر کے حضرت مرزا غلام احمد صاحب علیہ الصلوۃ والسلام کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا متبع مانتے ہیں اور وہ اعتقادی و عملی لحاظ سے کسی طرح بھی آنحضرت ﷺ کے لائے ہوئے دین اسلام سے منحرف نہیں ہیں بلکہ فنافی الرسول ہو کر آنحضرت ﷺ کی اتباع اور ان کے فیضان و برکت کے توسل سے امام مہدی موعود و مسیح موعود و امتی نبی ہیں۔پس اگر حضرت مرزا صاحب علیہ الصلوۃ والسلام اپنے مذکورہ بالا دعاوی میں بچے اور برحق ہیں۔تو اے اللہ! ہم کو باعزت و با آبر وزندگی میں رکھ کر ہمارے ان مخالفین فریق مباہلہ کو عبرتناک عذاب یا عبرتناک مرض مثلا فالج، لقوہ، سکته، یا حقیقی رسوائی یا موت سے معذب فرما اور حق و باطل کا فیصلہ فرما جو حضرت مرزا غلام احمد صاحب علیہ الصلوۃ والسلام کو کافر ، جھوٹا، مفتری علی اللہ وگمراہ جانتے و مانتے ہیں۔اور اگر مرزا صاحب اپنے دعاوی میں جھوٹے ہیں اور مفتری علی اللہ و بے دین ہیں تو ہم پر عبرتناک عذاب یا عبرتناک مرض یا حقیقی رسوائی یا موت نازل و وار فر ما تا که حق و باطل کا فیصلہ ہو اور تیرے بندے گمراہی و ضلالت سے بچ جاویں۔آمین (۹) تاریخ و وقت مقررہ پر یعنی بوقت ۸ بجے صبح ۲۶ / اپریل ۱۹۳۶ء کو جو فریق حسب وعدہ حاضر نہ ہواوہ اور اس کا سلسلہ و مذہب جھوٹا تصور ہوگا۔(۱۰) بوقت مناظرہ فریقین ایک دوسرے کو تہذیب کے ساتھ خطاب کریں گے۔نوٹ: شرط نمبر ۵ کی اخیر سطر میں جو کثرت کا اعتبار ہوگا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر