حیاتِ خالد — Page 18
حیات خالد 18 دلنشیں تلاوت کی یاد خلفائے احمدیت کے مبارک ارشادات جولائی ۱۹۹۳ء میں مکرم عطاء المجیب صاحب راشد نے حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی کی ن خدمت میں حضرت مولانا کے اس درس القرآن سے جو آپ نے ۱۹۷۵ء اور ۱۹۷۶ء میں بیت المبارک ربوہ میں بیان فرمایا تھا ما خود تلاوت قرآن کریم پر مشتمل ایک آڈیو ٹیپ بطور تحفہ ارسال کی۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے جواباً تحریر فرمایا : - ا سال کے بعد حضرت مولوی صاحب کی معروف مانوس دلنشیں تلاوت سن کر بہت لطف آیا بہت پیارا اور بابرکت تحفہ ہے۔جزاکم الله احسن الجزاء في الدنيا والاخرة نکاح کے موقع پر حضرت مولانا کا تذکرہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے ۲۲ مئی ۱۹۹۴ء کو بیت الفضل لندن میں عزیز مکرم عطاء الاعلیٰ صاحب ظفر ابن مکرم عطاء الکریم شاهد صاحب مربی سلسلہ عالیہ احمدیہ اور عزیزہ مکرمہ عطیہ ساجد و صاحبہ بنت مکرم مولانا عطاء المجیب راشد صاحب امام بیت الفضل لندن کے نکاح کا اعلان فرمایا۔لڑکا اور لڑکی دونوں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کے پوتا اور پوتی ہیں۔حضور رحمہ اللہ نے خطبہ نکاح میں جو انگریزی میں ارشاد فرمایا حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کا حسین تذکرہ فرمایا۔حضور کے خطبہ کا اُردو ترجمہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔" دونوں گھرانے ایک عظیم الشان شجر یعنی حضرت مولوی ابوالعطاء صاحب جالندھری کی شاخیں ہیں کیونکہ دلہن اور دولہا حضرت مولوی ابوالعطاء صاحب کی پوتی اور ہوتا ہیں۔پس ہم اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ نہ صرف عالی نسب خون دلہن اور دلہا کی رگوں میں دوڑ رہا ہے بلکہ فریقین کو ذاتی طور پر جانتے ہوئے میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہر دو نے اپنے آباء واجداد کی احمدیت میں شاندار روایات کے ساتھ پیروی کی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہ اپنے کردار میں مثالی ہیں خواہ ان کا قیام کسی بھی جگہ کیوں نہ ہو۔پس الحمد للہ کہ ہم شرافت کو نسلاً بعد نسل منتقل ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔میں امید رکھتا ہوں کہ