حیاتِ خالد — Page 17
حیات خالد 17 خلفائے احمدیت کے مبارک ارشادات المسیح مالی قربانیوں کا تذکرہ حضرت اقدس خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے مورحہ ۱۵ نومبر ۱۹۸۲ء کو تحریک جدید کے نئے سال کے آغاز کے موقع پر جو خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اس میں تحریک جدید کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے بعض پرانے بزرگوں کی مالی قربانی کا بھی ذکر فرمایا۔حضور نے فرمایا۔سلسلہ کے بہت سے ایسے بزرگ بھی تھے جو اگر چہ کچھ زائد تنخواہ پانے والے تھے لیکن اس زمانے میں بھی ان کی تنخواہ دنیا کے لحاظ سے بہت کم تھی۔مثلاً ناظروں کے معیار کے لوگ اور سلسلہ کے پرانے خدام اور صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی لمبی خدمت کی توفیق پائی تھی۔پچاس، ساٹھ ستر روپے ماہوار سے زیادہ ان کی تنخواہیں نہیں تھیں، ان میں سے بھی بعض نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر چندے لکھوائے۔مثلاً حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے اڑھائی سو روپے چندہ لکھوایا۔اسی طرح دیگر بزرگوں میں سے مولوی ابوالعطاء صاحب ( جو اس وقت کی نسل میں نسبتا چھوٹے تھے ) اور مولوی جلال الدین صاحب شمس نے بھی پچاس پچاس روپے پچپن چھپن روپے لکھوائے جو اس زمانے کے لحاظ سے ان کی آمد کے مقابل پر بہت ( الفضل ۲ ۱ دسمبر ۱۹۸۲ء) اس خطبہ کے بعد حضرت مولانا کے صاحبزادے مکرم عطاء الکریم شاہد صاحب نے حضور رحمہ اللہ کی خدمت میں ایک خط حضرت مولانا کی اہلیہ محترمہ کی طرف سے تحریر کیا جس میں یہ عہد کیا گیا کہ حضرت مولانا کا وعدہ تحریک جدید ہر سال اضافہ کے ساتھ تا قیامت ان کی اولا د ادا کرتی رہے گی۔انشاء اللہ۔اس خط پر حضور اید واللہ نے اپنے دست مبارک سے رقم فرمایا۔زیادہ تھے۔اللہ تعالیٰ حضرت مولوی صاحب کے درجات بہت بلند فرمائے۔مجھ سے ہمیشہ بڑی شفقت کا سلوک فرماتے اور حسن ظن رکھتے تھے۔جزاکم اللہ احسن الجزاء - اپنی امی کو بہت بہت سلام دیں۔اللہ تعالیٰ یہ قربانی قبول فرمائے“۔(۱۴/ نومبر ۱۹۸۲ء)