حیاتِ خالد — Page 16
جذبات غم حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ( رحمہ اللہ تعالیٰ ) نے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری مرحوم کی وفات (۳۰ رمئی ۱۹۷۷) کے اگلے روز یعنی کیم جون کو برطانیہ کے ایک دوست مکرم ملک عبد الخالق صاحب آف بریڈ فورڈ کے نام ایک خط لکھا۔اس خط کی آخری چند سطر میں یہ ہیں۔حضرت نواب مبارکہ بیگم اور حضرت مولانا ابوالعطاء کے وصال سے دل سخت رنجیدہ ہیں اللہ تعالٰی محض اپنے فضل سے اس عظیم روحانی اور علمی خلاء کو پورا فرمائے"۔پیش لفظ سے ایک اقتباس مکرم عبدالباری قیوم صاحب نے ۱۹۷۸ء میں احمدی شعراء کی نعتیہ نظموں کا ایک مجموعہ عقیدت کے پھول“ کے عنوان سے شائع فرمایا۔احمدی شعراء کی نعتوں کا غالبا یہ پہلا مجموعہ تھا جو معتی تاریخ میں شائع ہوا۔اس کا پیش لفظ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب (رحمہ اللہ ) نے رقم فرمایا۔اس میں حضرت صاحبزادہ صاحب نے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کا خصوصی ذکر خیر فرمایا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے لکھا۔اس نعتیہ کلام پر نظر ڈالتے ہوئے مجھے بارہا حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی یاد نے ستایا۔چند سال قبل آپ نے سالانہ نعتیہ مشاعروں کا جس ذوق و شوق سے اہتمام فرمایا تھا اس کی یاد دل سے محو نہیں کی جاسکتی۔اس مجموعہ کلام کی بہت سی نظمیں انہی مشاعروں کی رہین منت ہیں۔وہ شاعر نہ تھے تا ہم اگر زندگی بھر میں صرف ایک نظم کہنا کسی کو شعراء کی صف میں کھڑا ہونے کا حقدار بنا سکتا ہے تو پھر انہیں شاعر سمجھنے میں مضائقہ نہیں۔وہ ایک ہی نظم جو ان کے سرچشمہ محبت سے پھوٹی وہ نعتیہ کلام تھا۔کاش قیوم صاحب کو وہ نعت دستیاب ہو جائے اور وہ اسے اس مجموعہ کے دوسرے ایڈیشن میں شامل کرنے کی سعادت پائیں ) اللہ تعالیٰ آپ کی روح کو اپنے پاک حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جگہ دے اور احمدیت کو ہمیشہ لاکھوں کروڑوں ایسے عشاق رسول بلکہ اس سے بہت بڑھ کر فدائی عطا فرماتا رہے۔آمین۔