حیاتِ خالد — Page 120
حیات خالد 126 مناظرات کے میدان میں قائم رہ کر فیصلہ کریں گے؟ دیدہ بائد پیغام صلح کے شائع شدہ حوالوں کے متعلق عنقریب لکھا جائے گا۔انشاء اللہ تعالی۔خاکسار اللہ دتا جالندھری مولوی فاضل قادیان - (الفضل ۲۷ نومبر ۱۹۲۸ء) گجرات میں صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایک پادری سے گفتگو عیسائیوں کے ساتھ اس مباحثے کی تفاصیل ریویو آف ریلیجنز نے جولائی ۱۹۲۸ء کے شمارہ میں شائع کیں۔, ملاحظہ فرمائیے۔صداقت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق جو مناظرہ ہوا اس کے متعلق ایڈیٹر صاحب کا نوٹ حسب ذیل ہے:- عیسائیت کی چوٹی۔اسلام کی جوتی۔پادری عبدالحق کی حالت زائر ۲۹ فروری احاطہ مشن سکول گجرات میں بدستور سابق گذشتہ شب بھی آپ کا لیکچر تھا۔مولوی اللہ دتا صاحب نے پے در پے دور تھے لکھے کہ آج آپ کا مضمون کیا ہو گا۔مگر کل رات کی چوٹیں ابھی پادری صاحب کو بھولی نہ تھیں۔سوچا کہ آج بھی مضمون بتا دیا تو انہیں تیاری کا موقع مل جائے گا۔خیر تقریر شروع ہوئی۔پادری صاحب نے عجیب چالاکی سے مسلمانوں کے سامنے فرقہ بازی کا دانہ بکھیرنے کی کوشش کی لیکن اب مسلمانوں میں کچھ وہ بیہودگی بہت کم ہو گئی ہے جو ایسے مواقع پر بھی انہیں باہم دست وگر یہاں کر دیا کرتی تھی۔الغرض پادری صاحب کی کوئی پیش نہ گئی۔آپ کہا کرتے تھے کہ میں مسیحیوں میں چوٹی کا مناظر ہوں اس پر مولوی صاحب نے ایک برجستہ لفظ کہا کہ میں مسلمانوں کی جوتی ہوں۔اس کے بعد پادری صاحب کی عربی دانی کا پول بھی کھل گیا اور باوجود دوبارہ کوشش کرنے کے بھی صحیح نہ پڑھ سکے۔دوسرا مناظرہ ایک نئے مسئلہ پر شروع ہو ا یعنی وحدت الہی کی حد تام اور حلال و حرام قرآن مجید سے بیان کرو۔مولوی صاحب نے اس پر بھی خوب روشنی ڈالی پادری صاحب کا چہرہ فق تھا۔اور رنگ بدل رہے تھے مگر یہ غلط فہمی نہ رہے باوجود یکہ آپ نے کئی اعتراضات اور حوالوں کو صحیح تسلیم کر لیا۔اور لا جواب ہو گئے۔مگر ہارنے کا اقرار نہیں کیا۔یہ کہنا بھی غلط ہے کہ آپ اس شکست کے بعد پھر کبھی میدان میں نہیں آئیں گے۔کیونکہ یہ معاملہ ہی اور ہے۔ا