حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 102 of 923

حیاتِ خالد — Page 102

حیات خالد 108 مناظرات کے میدان میں اپنے منتری کے ذریعہ جماعت احمد یہ امر تسر کو بھی چیلنج دے دیا اور مضمون صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقرر کیا۔آریوں کا یہ بھی خیال تھا کہ اس موضوع میں احمدیوں کا موقف صرف دفاعی رہے گا اس لئے شاید وہ اس چیلنج کو منظور ہی نہ کریں ہم مفت میں فتح کا ڈھنڈورہ پیٹ سکیں گے اور اگر احمدی مناظرہ کیلئے آگئے تو اس موضوع میں عام مسلمان بھی مخالفت کے باعث ہمارے ساتھ ہونگے۔ان دنوں امرتسر جماعت احمدیہ کے سیکرٹری تبلیغ محترم چوہدری غلام محمد صاحب آف کڑیال مرحوم تھے ، وہ منتری آریہ سماج کے چیلنج کے پیش نظر قادیان پہنچے۔انہوں نے بڑے بڑے علماء سے اس بارے میں مشورہ کیا۔میں ان دنوں مولوی فاضل کے بعد حضرت حافظ روشن علی صاحب رضی اللہ عنہ کے پاس مبلغین کلاس میں پڑھا کرتا تھا۔میں اپنے گھر سے جو حضرت مولوی حکیم قطب الدین صاحب کے مکان میں تھا نماز ظہر کیلئے مسجد مبارک کو چارہا تھا۔چوک میں مرحوم چوہدری صاحب مل گئے اور کہنے لگے کہ اگر آریہ سماجی یہ چیلنج دیں کہ ہم سے حضرت مرزا صاحب کی صداقت پر بحث کر لو تو کیا کرنا چاہئے ؟ میں نے اس وقت کی جو شیلی طبیعت کے ماتحت بے ساختہ کہا کہ کرنا کیا چاہئے دشمنان دین کے چیلنج کو فور امنظور کر لینا چاہئے۔میرا یہ انداز جواب محترم چو ہدری صاحب کو بہت پسند آیا۔وہ مجھے پہلے بھی جانتے تھے۔دوسرے روز پیر کے دن علی اصبح جب کہ ہم اپنے استاد حضرت حافظ روشن علی صاحب سے مبلغین کلاس میں پڑھ رہے تھے حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر نائب ناظر دعوة وتبلیغ مکرم چوہدری غلام محمد صاحب مرحوم آف کڑیال کی معیت میں تشریف لائے اور حضرت حافظ صاحب سے فرمایا کہ آئندہ جمعرات کی شام کو امرتسر میں آریوں سے مناظرہ ہے ابو العطاء نے جانا ہے انہوں نے مان لیا ہے اس کے بعد وہ مجھ سے گاڑی کے اوقات وغیرہ کے بارے میں بات کر کے چلے گئے۔ان کے جانے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ حضرت حافظ صاحب کو یہ بات ناگوار ہوئی کہ میں نے اپنے استاد سے اجازت لئے بغیر از خود جانا مان لیا ہے۔میں نے حقیقت بتائی کہ میری تو چوہدری صاحب سے اتنی بات ہوئی تھی کہ آریوں کا چیلنج ضرور قبول کرنا چاہئے۔جس کو انہوں نے اس طرح بیان فرمایا ہے۔مبلغین کلاس میں جمعرات کے روز ہم طلبہ تقاریر کیا کرتے تھے میرا خیال تھا کہ اس دفعہ مجھے اس سے رخصت مل جائے گی اور میں صبح ہی امرتسر چلا جاؤں گا شام کو بعد عشاء مناظرہ ہوگا۔حضرت حافظ صاحب میرے کئی دفعہ عرض کرنے کے باوجو د رخصت دینے پر رضا مند نہ ہوئے۔میں نے ارادہ کر لیا کہ کلاس سے فارغ ہو کر روانہ ہو جاؤں گا مگر ہوا یوں کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو موسلا دھار