حیات بشیر — Page 70
70 شملہ کا سفر چونکہ ان دنوں حضرت امیر المؤمنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی شملہ میں تشریف رکھتے تھے اس لئے بمبئی سے واپسی پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت میر محمد اسحاق صاحب شملہ تشریف لے گئے۔۱۰۵ سرہند، سنور اور پٹیالہ کا سفر ۹ اکتوبر کاء کو حضور نے سرہند، سنور اور پٹیالہ جانے کا فیصلہ فرمایا۔حضرت مجدد الف ثانی کے مزار پر دعا کرنے کے بعد آپ راجپورہ واپس پہنچے اور دو بجے کے قریب سنور تشریف لے گئے اس سفر میں صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بھی آپ کے ساتھ تھے۔11 کتب خانہ کا انتظام نومبر کاء میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کا عظیم الشان کتب خانہ صادق لائبریری اور تشخيذ لائبریری تینوں کو یکجا کر دیا گیا تا کہ وسیع پیمانہ پر ایک احمدیہ لائبریری قائم ہو جائے۔یہ انتظام مدرسہ احمدیہ کے دو وسیع کمروں میں کیا گیا اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو لائبریری کا نگران اعلیٰ مقرر کیا گیا۔علم وزیر ہند سے ملاقات وزیر نومبر ۱۷ء میں ہی حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت مسٹر مانٹیگو ہند اور وائسرائے ہند کی خدمت میں جماعت احمدیہ کا ایک وفد بھجوایا گیا۔جس نے ۱۵/ نومبر کو دہلی میں ایڈریس پیش کیا۔اس وفد میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بھی شامل تھے۔۰۵ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ خود بھی مسٹر مانٹیگو وزیر ہند کی ملاقات کیلئے دہلی تشریف لے گئے۔ملاقات کے بعد ۲۲ نومبر کاء کو آپ واپس قادیان تشریف لے آئے۔109 ۱۹۱۸ ء کے واقعات ۱۹۱۸ ء میں آپ ریویو آف ریلیجنز کے ایڈیٹر مقرر ہوئے اور خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی تائید سے آپ نے اسلام اور احمدیت کے متعلق ایسے مہتم بالشان مضامین لکھے جن کی افادیت کو برملا لتسلیم کیا گیا اور آپ کے پُر مغز مضامین سے ایک عالم نے فائدہ اُٹھایا۔چنانچہ جنوری 11ء میں ہی آپ نے تصدیق اسیح کے عنوان سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے دعاوی کی تصدیق میں ۳۹