حیات بشیر — Page 67
67 اللہ تعالیٰ نے صاحبزادہ والانبار کو جیسے علوم ظاہری سے پُر کیا ہے۔ایسا ہی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر باطنی علوم سے بھی پُر فرمائے اور آپ ہر پہلو سے قمر الانبیاء ہوں۔‘ ۹۵ آپ کی آنریری خدمات پر ایم۔اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد آپ نے پھر اپنے مفوضہ فرائض آنریری طور سرانجام دینے شروع کر دیے۔آپ ان دنوں مدرسہ احمدیہ کے بھی افسر تھے اور تعلیم الاسلام ہائی سکول میں ففتھ ہائی کو جغرافیہ بھی پڑھاتے تھے اور یہ تمام کام بلا تنخواہ کرتے تھے۔اگست ۱۶ء میں افسر صاحب تعلیم الاسلام ہائی سکول نے صدر انجمن میں رپورٹ کی کہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب مدرسہ میں عرصہ سے آنریری طور پر کام کر رہے ہیں اور ففتھ ہائی کو جغرافیہ پڑھاتے ہیں مگر چونکہ اب انسپکٹر کا سرکلر آیا ہے کہ ٹیچر خواہ آنریری ہو یا پیڈ پورے وقت کا ہونا چاہیے اور حضرت میاں صاحب کا مضمون بھی ایسا ہے کہ موجودہ صورت میں آپ کے سوا کوئی پڑھانے والا نہیں اس لئے اُن کا پورے وقت کے لئے اُستاد ہونا ضروری ہے اور عنقریب ٹائم ٹیبل تبدیل ہو جانے سے اور کام بھی آپ کیلئے نکل آئے گا۔اس وقت سکول میں دو عہدے خالی ہیں جن کیلئے آپ ہر طرح موزوں ہیں۔ان میں سے ایک آسامی مینیجر سکول کی ہے اور دوسری مدرس ریاضی کی۔مینیجر کے لئے تو کسی تغیر و تبدل کی ضرورت نہیں اور نہ ہی موجودہ وقت سے زیادہ انہیں دینا پڑے گا۔البتہ مدرس ریاضی کے پر اس وقت ماسٹر رحیم بخش صاحب کام کر رہے ہیں میرے نزدیک فی الحال اس عہدہ پر حضرت میاں صاحب کو بمشاہرہ یک صد روپیہ لگایا جائے اور ماسٹر رحیم بخش صاحب کو فورتھ ماسٹر مقرر کیا جائے۔طور اس رپورٹ پر صدر انجمن احمدیہ نے فیصلہ کیا کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے کا تقرر بعہدہ مدرس ریاضی بمشاہرہ یک صد " روپیہ ماہوار منظور ہے۔“ 221 یہ تقرر صدر انجمن احمدیہ کے ریز لیوشن نمبر ۳۲۵ مؤرخہ ۲/ ستمبر ۱۵ء کے مطابق صرف چھ ماہ کیلئے ہوا۔جس کی میعاد ۵ فروری کاء کو ختم ہو جاتی تھی۔