حیات بشیر — Page 57
57 آٹھ یا ساڑھے آٹھ بجے ڈاکٹر نے پوچھا کہ حضور کو خاص طور پر کیا تکلیف محسوس ہوتی ہے۔مگر آپ جواب نہ دے سکے۔اس لئے کاغذ قلم دوات منگوائی گئی اور آپ نے بائیں ہاتھ پر سہارا لے کر بستر سے کچھ اُٹھ کر لکھنا چاہا مگر بمشکل دو چار الفاظ لکھ سکے اور پھر بوجہ ضعف کے کاغذ کے اوپر قلم گھسٹتا ہوا چلا گیا اور آپ پھر لیٹ گئے یہ آخری تحریر جس میں غالباً زبان کی تکلیف کا اظہار تھا اور کچھ حصہ پڑھا نہیں جاتا تھا جناب والدہ صاحبہ کو دے دی گئی نو بجے کے قریب حضرت صاحب کی حالت زیادہ نازک ہوگئی اور تھوڑی دیر کے بعد آپ کو غرغرہ شروع ہو گیا۔غرغرہ میں کوئی آواز وغیرہ نہیں تھی بلکہ صرف سانس لمبا لمبا اور کھیچ کھیچ کر آتا تھا۔خاکسار اس وقت آپ کے سرہانے کھڑا تھا۔یہ حالت دیکھ کر والدہ صاحبہ کو جو اُس وقت ساتھ والے کمرہ میں تھیں اطلاع دی گئی۔وہ معہ چند گھر کی مستورات کے آپ کی چارپائی کے پاس آکر زمین پر بیٹھ گئیں۔اس وقت ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب لاہوری نے آپ کی چھاتی میں پستان کے پاس انجکشن یعنی دوائی کی پچکاری کی جس سے وہ جگہ کچھ ابھر آئی مگر کچھ افاقہ محسوس نہ ہوا بلکہ بعض لوگوں نے بُرا منایا کہ اس حالت میں آپ کو کیوں تکلیف دی گئی۔تھوڑی دیر تک غرغرہ کا سلسلہ جاری رہا اور ہر آن سانسوں کے درمیان کا وقفہ لمبا ہوتا گیا حتی کہ آپ نے ایک لمبا سانس لیا اور آپ کی روح رفیق اعلیٰ کی طرف پرواز کر گئی۔اللهم صلّ عليه و على مطاعه محمد وبارک وسلم‘ ۵۶ جماعت احمدیہ کے ۶۰ء کے سالانہ جلسہ پر بھی آپ نے دُ رّمنثور کے عنوان سے جو تقریر فرمائی تھی اس میں بھی آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا کہ حضور کے وصال کا واقعہ اس وقت پچاس سال گذرنے پر بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے گویا کہ میں حضور کے سفر آخرت کی ابتداء اب بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔‘کھے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی خدمت میں درخواست بیعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی خدمت میں صدر انجمن احمدیہ اور جماعت کے دوسرے دوستوں کی طرف سے جو درخواست بیعت پیش