حیات بشیر — Page 56
56 اس تقریر کے بعض فقرے اب تک میرے کانوں میں گونجتے ہیں۔آپ نے فرمایا تم عیسی کو مرنے دو کہ اسی میں اسلام کی زندگی ہے۔نیز فرمایا اب ہم تو اپنا کام ختم کر چکے ہیں۔“ ۵۵۔۲۶ رمئی ۰۸ء کو جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کا المناک سانحہ پیش آیا تو آپ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سرہانے کھڑے تھے۔اس وقت آپ نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ آپ کے ہی الفاظ میں پیش کیا جاتا ہے۔آپ فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود ۲۵ رمئی ۱۹۰۸ ء یعنی پیر کی شام کو بالکل اچھے تھے۔رات کو عشاء کی نماز کے بعد خاکسار باہر سے مکان میں آیا تو میں نے دیکھا کہ آپ والدہ صاحبہ کے ہو۔ساتھ پلنگ پر بیٹھے ہوئے کھانا کھا رہے تھے۔میں اپنے بستر پر جا کر لیٹ گیا اور پھر مجھے نیند آ گئی۔رات کے پچھلے پہر صبح کے قریب مجھے جگایا گیا یا شائد لوگوں کے چلنے پھرنے اور بولنے کی آواز سے میں بیدار ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسہال کی بیماری سے سخت بیمار ہیں اور حالت نازک ہے اور ادھر اُدھر معالج اور دوسرے لوگ کام میں لگے ہوئے ہیں۔جب میں نے پہلی نظر حضرت مسیح موعود کے اوپر ڈالی تو میرا دل بیٹھ گیا کیونکہ میں نے ایسی حالت آپ کی اس سے پہلے نہ دیکھی اور میرے دل پر یہی اثر پڑا کہ یہ مرض الموت ہے۔اس وقت آپ بہت کمزور چکے تھے۔اتنے میں ڈاکٹر نے نبض دیکھی تو ندارد۔سب سمجھے کہ وفات پاگئے اور یکدم سب پر ایک سناٹا چھا گیا۔مگر تھوڑی دیر کے بعد نبض میں پھر حرکت پیدا ہوئی مگر حالت بدستور نازک تھی۔اتنے میں صبح ہوگئی اور حضرت مسیح موعود کی چارپائی کو باہر صحن سے اُٹھا کر اندر کمرہ میں لے آئے۔جب ذرا اچھی روشنی ہوگئی تو حضرت مسیح موعود نے پوچھا کہ کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے۔غالباً شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی نے عرض کیا کہ حضور ہوگیا ہے۔آپ نے بستر پر ہی ہاتھ مار کر تیم کیا اور لیٹے لیٹے ہی نماز شروع کر دی مگر آپ اسی حالت میں تھے کہ غشی سی طاری ہوگئی اور نماز کو پورا نہ کر سکے۔تھوڑی دیر کے بعد آپ نے پھر دریافت فرمایا کہ صبح کی نماز کا وقت ہو گیا ہے۔عرض کیا گیا حضور ہو گیا ہے۔آپ نے پھر نیت باندھی مگر مجھے یاد نہیں کہ نماز پوری کر سکے یا نہیں اس وقت آپ کی حالت سخت کرب اور گھبراہٹ کی تھی۔غالباً