حیات بشیر

by Other Authors

Page 53 of 568

حیات بشیر — Page 53

53 ۲۶ جولائی ۱۹۴۶ء میں شائع کروا دیا تھا۔حضور نے اس میں تحریر فرمایا: اس سے پہلے اخویم مولوی عبد الکریم صاحب نے برخوردار محمود احمد کے رشتہ ناطہ کے لئے عام دوستوں میں تحریک کی تھی اور آپ کے خط کے پہنچنے سے پہلے ایک دوست نے اپنی لڑکی کے لئے لکھا اور محمود نے اس تعلق کو قبول کر لیا۔بعد اس کے آج تک میرے دل میں تھا کہ بشیر احمد اپنے درمیانے لڑکے کے لئے تحریک کروں جس کی عمر دس برس کی ہے اور صحت اور متانت مزاج اور ہر ایک بات میں اس کے آثار اچھے معلوم ہوتے ہیں اور آپ کی تحریر کے موافق عمریں بھی باہم ملتی ہیں۔اس لئے یہ خط آپ کو لکھتا ہوں اور میں قریب ایام میں اس بارہ میں استخارہ بھی کروں گا۔“ آپ نے یہ بھی تحریر فرمایا کہ چونکہ دونوں کی عمر چھوٹی ہے۔اس لئے تین برس تک شادی میں توقف ہوگا۔“ حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کا واقعہ شہادت جولائی ۳ء میں جب حضرت صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب کی شہادت کی خبر قادیان میں پہنچی تو آپ فرمایا کرتے تھے کہ ایک اس خبر سے ایک طرف تو حضرت صاحب کو سخت صدمہ پہنچا کہ ایک مخلص دوست جدا ہوگیا اور دوسری طرف آپ کو پرلے درجہ کی خوشی ہوئی کہ آپ کے متبعین میں سے شخص نے ایمان و اخلاص کا یہ اعلیٰ نمونہ دکھایا کہ سخت سے سخت دُکھ اور مصائب جھیلے اور بالآخر جان دے دی مگر ایمان کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔‘ ۲۸ آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید کے بالوں کو یادگار اور تبرک کے طور پر سالہا سال تک اپنے بیت الدعاء میں لٹکائے رکھا اور اب یہ بال میرے پاس محفوظ ہیں۔“ وہ باغ میں رہائش ۴/اپریل ۱۹۰۵ء کو کانگڑہ میں ایک قیامت خیز زلزلہ آیا جس کے اثرات دُور دُور تک محسوس کئے گئے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ نواب محمد علی خاں صاحب کے شہر والے مکان کے ساتھ ملحق حضرت صاحب کے