حیات بشیر — Page 52
حاضرین مجلس کو چائے بھی پیش کی گئی۔۴۵ 52 حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا نکاح حضرت صاحب کے گھر کے اندر صحن میں ہوا تھا۔جہاں اب حضرت ام المؤمنین رہتی ہیں۔اس موقعہ پر حضرت صاحب نے امرتسر سے اعلیٰ قسم کے چھوہارے کافی مقدار میں تقسیم کرنے کیلئے منگوائے تھے جو مجلس میں کثرت سے تقسیم کئے گئے بلکہ بعض مہمانوں نے تو اس کثرت سے چھوہارے کھا لئے کہ دوسرے دن حضرت صاحب کے پاس یہ رپورٹ پہنچی کہ کئی آدمیوں کو اس کثرت کی وجہ سے پیچپش لگ گئی ہے۔“ ہے۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے اس خوشی میں الــحـکـم کا ایک غیر معمولی پرچہ شائع کیا۔رشتہ کو ترجیح دینے کی وجہ حضرت امیر المؤمنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اولاد ” مجھے یاد ہے کہ جس جگہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب کی شادی کی تحریک ہوئی اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ اس خاندان کی کس قدر ہے اور جب آپ کو معلوم ہوا کہ سات لڑکے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور تمام باتوں پر غور کرنے سے پہلے فرمانے لگے۔بہت اچھا ہے یہیں شادی کی جائے۔میری اور میاں بشیر احمد صاحب کی شادی کی تجویز اکٹھی ہوئی تھی۔ہم دونوں کی شادی کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہی دریافت فرمایا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ جہاں رشتے تجویز ہوئے ہیں اُن کے ہاں کتنی اولاد ہے۔کتنے لڑکے کتنے بھائی ہیں تو جہاں آپ نے اور باتوں کو دیکھا وہاں ولودا کو مقدم رکھا۔اب بھی بعض لوگ جو مجھ سے مشورہ لیتے ہیں میں ان کو یہی مشورہ دیتا ہوں کہ یہ دیکھو جہاں رشتے تجویز ہوئے ہیں ان کے ہاں کتنی اولاد ہے۔“ ہے حضرت مسیح موعود کا گرامی نامہ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رشتہ کی تحریک کے لئے حضرت مولوی غلام حسن خاں صاحب کو جو گرامی نامہ لکھا تھا وہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے الفضل