حیات بشیر — Page 496
496 رونق انجمن ماه رخاں یاد آیا محترم جناب عبد المنان صاحب ناہید آج اک مهدی دوراں کا نشاں یاد آیا ایک دل عشق محمد میں تپاں یاد آیا جس کو اللہ نے فرمایا تھا نبیوں کا قمر آج وہ ابن مسیحائے زماں یاد آیا چاندنی چاند کی چھٹکی تو دل افسردہ ہوا رونق انجمن ماہ رُخاں یاد آیا قافله پر لے گیا میرا تصور مجھے الدار میں آج ہائے جن پاک دلوں کو وہ سماں یاد آیا زندگی تلخی حالات تلخ ہوئی سے جب مجھ کو وہ چارہ گر شیریں بیاں یاد آیا دل کا آئینہ نہیں ٹوٹا تو میں رویا ہوں نازش پیشه آئینه گراں یاد آیا جو گھڑی کوئی کڑی آن پڑی پھر وہی صاحب نظر نگراں یاد آیا اس کے ہوتے ہوئے ہر فکر سے آزاد تھا دل اس کے اُٹھ جانے سے ہر سود و زیاں یاد آیا جب بھی سینہ کا کوئی زخم ہرا ہوتا ہے اس کا مکتوب گرامی عنواں یاد آیا ذکر محبوب کسی نے جو کہیں چھیڑ دیا مجھ کو وہ دیده خوننا به فشاں یاد آیا ایک درویش جو رخصت ہوا درویشوں سے قادیاں مجھکو ترا خورد و کلاں یاد آیا اس کی جب شان جمالی کا بھی آیا خیال مجھ کو وہ مہدی بے تیغ و سناں یاد آیا اس کی تاثیر کہ تاثیر کی تھی جادو گری نفس مضمون که اعجاز بیاں یاد آیا اپنی تاریخ کا ہے زریں ورق جس کی حیات آج ناهید وہی جان جہاں یاد آیا (الفرقان قمر الانبیاء نمبر صفحہ ۲۱) &&&