حیات بشیر

by Other Authors

Page 49 of 568

حیات بشیر — Page 49

49 بڑوں کا ادب فرماتے تھے: ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اس حجرہ میں کھڑے تھے جو عزیزم میاں شریف احمد کے مکان کے ساتھ ملحق ہے والدہ صاحبہ بھی غالباً پاس تھیں۔میں نے کوئی بات کرتے ہوئے مرزا نظام الدین کا نام لیا تو صرف نظام الدین کہا۔( یہ حضرت مسیح موعود کے سخت مخالف تھے ) حضرت مسیح موعود نے فرمایا میاں آخر وہ تمہارا چچا ہے۔اس طرح نام نہیں لیا کرتے۔“ ۳۷۔نزول الہام کی کیفیت فرماتے تھے: ایک دفعہ حضرت مسیح موعود اپنے مکان کے چھوٹے صحن میں ایک لکڑی کے تخت پر تشریف رکھتے تھے۔غالباً صبح یا شام کا وقت تھا۔آپ کو کچھ غنودگی ہوئی تو آپ لیٹ گئے۔پھر آپ کے ہونٹوں سے کچھ آواز سنی گئی۔جس کو ہم سمجھ نہیں سکے۔پھر آپ بیدار ہوئے تو فرمایا مجھے اس وقت یہ الہام ہوا ہے مگر خاکسار کو وہ الہام یاد نہیں رہا۔۳۸ خطبہ الہامیہ کا نظارہ اپریل ۱۹۰۰ ء میں جب عید الاضحیٰ کے موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خطبہ الہامیہ پڑھا تو اس وقت آپ کی عمر صرف سات سال تھی مگر آپ فرمایا کرتے تھے: ” مجھے وہ نظارہ خوب یاد ہے۔حضرت صاحب بڑی مسجد کے پرانے حصہ کے درمیانی در کے پاس صحن کی طرف مونہہ کئے ہوئے تھے اور اس وقت آپ کے چہرہ پر ایک خاص رونق اور چمک تھی اور آپ کی آواز میں ایک خاص درد اور رُعب تھا اور آپ کی آنکھیں قریباً بند تھیں۔“ وسی آپ کا ایک اہم رؤیا مرزا امام الدین وغیرہ نے جب ایک دفعہ مسجد مبارک کے نیچے کا راستہ دیوار کھینچ کر بند کر چاره دیا اور احمدیوں کو سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مجبوراً قانونی جوئی کرنی پڑی تو گو اس وقت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی عمر صرف سات سال تھی۔آپ نے رویا میں دیکھا کہ وہ دیوار گرائی جارہی ہے اور آپ اس کے گرے ہوئے حصہ کے اوپر