حیات بشیر — Page 50
50 سے گذر رہے ہیں۔آپ فرماتے تھے کہ میں نے یہ خواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس بیان کیا تو آپ نے اُسے بڑی توجہ سے سنا اور اُسے نوٹ کر لیا۔۴۰ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ اگست 190 ء میں یہ دیوار عدالت کے فیصلہ کے ماتحت گرا دی گئی۔دعاؤں کی برکت غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کو آپ نے بچپن سے ہی نہایت غور سے سننا شروع کیا اور حضور کی دعاؤں سے آپ نے پورا پورا حصہ پایا۔آپ خود فرماتے ہیں: آج تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں نے ہمارا اس طرح ساتھ دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا فضل اس طرح ہمارے شامل حال رہا ہے کہ اس کے متعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہر بال ہو جائے سخنور سکول میں داخلہ اور تعلیم تو پھر بھی شکر امکاں سے ہے باہر " اوپر یہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی آنکھیں بچپن میں ہی خراب ہو گئی تھیں اور یہ تکلیف جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی تحریر فرمایا ہے کئی سال تک جاری رہی بلکہ تذکرہ کے موجودہ ایڈیشن کے حاشیہ صفحہ ۳۳۳ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تکلیف آپ کو سات سال تک رہی گویا ۱۹۰۰ ء تک اس تکلیف کا سلسلہ ممتد چلا گیا۔ان حالات میں گو مدرسہ تعلیم الاسلام کا قیام ۳ /جنوری ۱۸۹۸ء سے عمل میں آچکا تھا مگر آپ کے داخلہ کا ابتدائی سال ۳/ قیاساً ء بنتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو معجزانہ رنگ میں شفا عطا فرما دی۔آپ چونکہ ابتدائی ١٩٠١ء تعلیم گھر میں حاصل کر چکے تھے اس لئے آپ مدرسہ تعلیم الاسلام کی لوئر پرائمری میں داخل کرائے گئے۔اس کی مزید تصدیق محترم قاضی اکمل صاحب کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ میں اء کے شروع میں قادیان آیا تو آپ کی ملاقات کو بھی گیا۔حضرت صاحبزادہ صاحب سے میں نے پوچھا کہ آپ کونسی جماعت میں پڑھتے ہیں تو انہوں نے فرمایا ساتویں جماعت میں۔ایک دن حضرت میر ناصر نواب صاحب سکول کے بورڈنگ میں تشریف لائے اور حافظ غلام محمد صاحب سابق مبلغ ماریشس سے فرمانے لگے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میاں بشیر احمد کو بورڈنگ میں داخل کرنے کا حکم دیا ہے آپ ان کا خیال رکھا کریں۔خواجہ عبد الرحمن صاحب