حیات بشیر

by Other Authors

Page 478 of 568

حیات بشیر — Page 478

478 راجعون۔رہتی چھوٹے بھائی کا صدمہ ابھی تازہ تھا۔ابھی وہ زخم بھی بھرے نہ تھے کہ یہ ایک کاری تیر اور میرے دل پر لگا۔ہم نے بھی آگے پیچھے اب وہیں جانا ہے جہاں وہ وہ گئے مگر درد جدائی کا احساس خون کا جوش ، دل کی جلن ایک قدرتی امر اور تقاضائے بشریت ہے۔زبان سے اُف نہ نکلے مگر دل کا کیا کیا جائے؟ چھوٹے بھائی جان کا صدمہ کم نہ تھا بلکہ میری ایک بات کو سمجھنے والے سمجھ سکیں گے کہ ایک صورت سے ان کا غم ایک دردناک حسرت اور رحم اور دکھ کا زیادہ اثر چھوڑ گیا۔وہ بھی کیسی نادر چیز تھے مگر نہ انہوں نے اپنی قدر پہچانی نہ اپنا خیال رکھا نہ بعض حالات ناگزیر کی وجہ سے ان کا خیال اتنا رکھا جا سکا۔ان وجوہ سے ان کے لئے اب تک دل میں دکھ رہتا ہے حسرت ہے مگر گو منجھلے بھائی صاحب کا صدمہ چوٹ پر چوٹ ہونے کی وجہ سے محسوس اس سے بھی بڑھ کر ہوا۔اور سب خاندان کے لئے جماعت کے لئے چونکہ ان کا وجود رحمت تھا تو اس سبب سے یہ سانحہ مزید غم و فکر کا موجب ہے۔تا ہم جہاں ایک آہ پر درد کے ساتھ قلب کی گہرائیوں سے اپنے مولا کے حضور دل و زبان سے نکلتا ہے اناللہ وانا الیہ راجعون ساتھ ہی میرے پیارے بھائی میری اماں جان کے ”بشری “ (ان کو حضرت اماں جان ابتک پیار سے بشری کہکر پکارا کرتی تھیں) کی کامیاب زندگی خدمات دینی اور بڑے بھائی کے حقیقی معنوں میں قوت بازو بن کر رہنے، تمام جماعت کے لئے مشعل راہ بننے دلوں کی تسکین ثابت ہونے اور اپنی شان آب تاب سے دکھلا کر رخصت ہونے پر اس غم میں بھی بے اختیار دل کہتا ہے اور بیحد جذبہ شکر و امتنان سے کہتا ہے کہ الحمد للہ الحمد للہ میرے بھائی نے ناکام زندگی نہیں پائی۔جیسا ہونا چاہئے تھا ، جیسی مراد حضرت مسیح موعود کی تھی ویسی ہی حیات مفید و مبارک گزار کر انجام بخیر پایا۔یا اللہ ! اپنی آغوش رحمت میں میرے حبیب میرے آقا کے قدموں میں بے حساب لے جانا میرے بھائی کو۔میں نے کچھ سال گزرے خواب دیکھا تھا کہ میرا بھائی مبارک احمد مرحوم بیمار ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام دوا و علاج ، کوشش اور دعا میں بے حد توجہ سے مشغول ہیں۔اس کے پلنگ کے ہی گرد اسی سلسہ میں پھر رہے ہیں مگر اس کا انتقال ہو گیا۔میں دروازے پر کھڑی ہوں ، بہت گھبراہٹ کی