حیات بشیر — Page 477
477 اور انتظامی شعبوں میں نہایت شاندار خدمات سر انجام دیں۔جامعہ احمدیہ اور تعلیم الاسلام ہائی سکول میں آپ نے بطور استاد کام کیا۔ریویو آف ریلیجز اور روزنامہ الفضل میں ادارت کے فرائض سر انجام دئے انگریزی تفسیر القرآن کے سلسلہ میں بھی آپ نے نہایت قابل قدر خدمات انجام دیں۔نیز ناظر تعلیم و تربیت ناظر تالیف وتصنیف،ناظر اعلیٰ اور ناظر خدمت درویشاں اور صدر نگران بورڈ کے طور پر آپ نے صدر انجمن احمدیہ کے انتظامی شعبوں کی نہایت درجہ کامیابی اور حسن و خوبی کے ساتھ رہنمائی فرمائی۔اور پھر ایسا گراں بہا لٹریچر اپنی یادگار چھوڑا کہ آنیوالی نسلیں قیامت تک آپ کی زیر بار احسان رہیں گی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حضرت میاں صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مقدس و مطہر روح پر اپنے انوار و برکات کی بے انداز بارش نازل فرمائے۔آپ کو اعلیٰ علیین میں اپنے خاص مقام قرب سے نوازے۔اور آپ کی برکات کو آپ کے بعد بھی قائم و دائم رکھے۔آمین۔اللہم آمین۔‘۲۷ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی طرف سے اپنے منجھلے بھائی کا ذکر خیر ، حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ مدظلہا لعالی نے حضرت میاں صاحب کے وصال پر ”میرے منجھلے بھائی کے عنوان سے جو شذرہ سپرد قلم کیا۔ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اسے یہاں من وعن درج کیا جائے۔آپ تحریر فرماتی ہیں: تمہیں کہتا ہے مردہ کون تم زندوں سے زندہ ہو تمہاری خوبیاں قائم۔تمہاری نیکیاں باقی۔وہ تو سال بھر سے کہہ رہے تھے کہ میں جارہا ہوں مگر دل ہمارے بھلا کب مانتے تھے۔اکثر میں نے کہا منجھلے بھائی ! حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو فرماتے تھے خواب کا آ جانا بہتر نشانی ہے کہ دعا وصدقات سے بلا ٹل جاتی ہے۔ناگہانی مصیبت سے خدا محفوظ رکھے۔جس میں دعا کی توفیق بھی نہیں مل سکتی۔بڑی معصومیت سے ”اچھا“ کہہ دیتے۔مگر پھر جب ملو وہی اشارے رخصت ہونے کے۔وہی ذکر۔مگر وقت آچکا تھا۔تقدیر مبرم تھی۔چودھویں کا چاند اُبھر رہا تھا کہ ہمارے گھر کا چاند قمر الانبیاء " بعد غروب آفتاب اس دنیائے فانی سے غروب ہو کر اپنے بھیجنے والے اپنے مالک حقیقی کی آغوش رحمت میں طلوع ہو گیا۔اور ہم تکتے رہ گئے انا للہ و انا الیہ