حیات بشیر — Page 457
457 چینی کی تکلیف اکثر رہتی تھی۔اور یہ خصوصاً دو پہر کے بعد اور رات کے پہلے حصہ میں زیادہ ہوتی تھی۔ایسے وقت میں اکیلے نہیں رہ سکتے تھے۔چاہتے تھے کہ عزیز آپ کے پاس رہیں۔اکثر فرماتے تھے کہ مجھے افسوس ہے کہ میں اپنی تکلیف کی وجہ سے سب کو بے آرام کرتا ہوں۔چھوٹی اور معمولی سی بات بھی آپ کی پریشانی کا باعث بن جاتی تھی۔مگر عجیب بات ہے کہ آپ کے پرانے عوارض میں سے کوئی عارضہ عود کر کے ہماری تشویش کا باعث نہیں بنا۔بلڈ پریشر خون کا دباؤ نبض اور دل کی عام حالت تسلی بخش رہی۔میں آپ کو دیکھنے کے لئے صبح و شام دن میں دو دفعہ حاضر ہوتا جب تکلیف زیادہ ہوتی تو بعض دنوں میں ۴۳ دفعہ بھی جاتا۔بے چینی کے وقت آپ کی خواہش ہوتی کہ میں زیادہ دیر آپ کے پاس بیٹھوں۔اس سے بھی آپ کو کچھ سکون ہوتا اکثر دست مبارک بڑھا دیتے اور اشارہ فرماتے کہ میں کرسی نزدیک کر لوں۔اکثر دفعہ میں جانے کا ارادہ کرتا تو فرماتے چند منٹ اور بیٹھیں۔اور پھر کچھ عرصہ کے بعد یہ احساس کرتے ہوئے کہ میں دیر سے بیٹھا ہوا ہوں۔جانے کی اجازت فرماتے مگر ضرور پوچھتے کہ آپ صبح آئیں گے نا؟ پھر خادموں کو حکم تھا کہ جب میں صبح آؤں اور آپ سوئے ہوئے ہوں تو بھی آپ کو جگا دیا جائے۔ایک دو دفعہ رات کو بے چینی کی وجہ سے جگانا مناسب نہ خیال کیا تو خادموں پر ناراض ہوئے کہ آپ کو کیوں اطلاع نہیں دی۔ان گھبراہٹ کے دنوں میں بھی دوست ملنے کے لئے آجاتے تھے۔بعض عیادت کے لئے ☆ اور بعض اپنے کاموں میں مشورہ کے لئے باوجود بے چینی کے یہی کوشش فرماتے کہ ان انہی ایام میں ایک روز خاکسار بھی نماز عصر کے بعد عیادت کیلئے حاضر ہوا۔اطلاع ملنے پر حضرت صاحبزادہ میاں مظفر احمد صاحب باہر تشریف لائے۔میں نے عرض کی کہ اگر ڈاکٹری مشورہ یہی ہے کہ ملاقات کی اجازت نہیں تو پھر کسی موزوں وقت میں میرا سلام عرض کر دیں۔میں نہیں ملتا۔فرمایا میں اندر سے دریافت کر کے بتاتا ہوں۔پتہ چلا کہ ملاقات کی اجازت نہیں۔مگر حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف نے مجھ ناچیز پر یہ احسان فرمایا کہ فرمایا آپ کل نو بجے آ جائیں۔میں آپکی ملاقات ضرور کروا دوں گا۔چنانچہ دوسرے روز 9 بجے میں محترم حافظ شیخ نیاز احمد صاحب مالک الفردوس انار کلی کو ساتھ لیکر حاضر ہوا اس روز غالباً تکلیف زیادہ تھی۔اطلاع ملی کہ آج تکلیف زیادہ ہے۔میں نے کہا محترم میاں مظفر احمد صاحب نے کل فرمایا تھا کہ صبح 9 بجے تمہاری ملاقات کروا دوں گا۔یہ معلوم کر کے حضرت میاں صاحب نے فرمایا۔آپ آجائیں۔چنانچہ کھڑے کھڑے ایک دو منٹ ملاقات کر کے ہم واپس آگئے۔آہ! کسے معلوم تھا کہ یہ آخری ملاقات ہے اور اس کے بعد زندگی میں پھر ملاقات کا موقعہ نہیں ملے گا۔(عبد القادر )