حیات بشیر — Page 449
449 وہ ساتواں باب آپ کی آخری علالت اور وفات ہ دوست جن کو اکثر حضرت قمر الانبیاء رضی اللہ عنہ نور اللہ مرقدہ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوتا رہتا تھا۔جانتے ہیں کہ آپ کو اپنی وفات سے اندازاً دس سال قبل جبکہ آپ پر دل کی بیماری کا شدید حملہ ہوا تھا اور آپ کئی ہفتے صاحب فراش رہے تھے۔مسلسل تکلیف چلی آتی تھی۔علاوہ اس تکلیف کے جوڑوں کی درد تو بہت پرانی تھی۔قادیان میں بھی ہم دیکھتے رہتے تھے کہ یہ تکلیف آپ کو ہو جایا کرتی تھی۔بلکہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ یہ ہمارے خاندان کے اکثر افراد کو ہو ہے۔چنانچہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز متعنا اللہ بطول حیاتہ اور حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ کو بھی یہ تکلیف ہوا کرتی تھی۔پھر سات آٹھ سال سے ذیا بیطس کی تکلیف بھی شروع ہو گئی تھی۔محترم ڈاکٹر محمد یعقوب خاں صاحب جو اکثر آپ کے معالج رہے ہیں۔بیان فرماتے ہیں کہ جاتی وو ان تمام عوارض کی وجہ سے ہر پانچ چھ ماہ کے بعد آپ کسی نہ کسی تکلیف میں مبتلا ہو درد جاتے تھے۔دل کی کمزوری کی وجہ سے آپ کو کبھی تنفس کی تنگی یا دل کی (Angina ) کا دورہ ہو جاتا تھا کبھی خون کا دباؤ بڑھ کر پریشانی اور بے خوابی کا باعث بن جاتا تھا پھر کبھی Congestive Failure کی وجہ سے پاؤں وغیرہ پر ورم ہو جاتا تھا۔یہ دورے اکثر کثرت کار یا جماعتی تفکرات کی وجہ سے ہو جاتے تھے اور کچھ آرام اور علاج سے حالت بہتر ہو جاتی تھی۔علاج اور آرام کے لئے آپ اکثر لاہور تشریف لے آتے تھے۔گو یہاں مجبوراً ٹھہرتے تھے اور جلد ربوہ واپس جانے کی کوشش فرماتے تھے۔“ اے حضرت میاں مظفر احمد صاحب فرماتے ہیں: ”ابا جان کی موجودہ بیماری کا آغاز گذشتہ جون میں ہوا۔جب ربوہ میں آپ نے نگران بورڈ کے ایک اجلاس کی صدارت فرمائی۔طبیعت پہلے سے خراب تھی لیکن آپ