حیات بشیر

by Other Authors

Page 450 of 568

حیات بشیر — Page 450

450 نے ہمیشہ دین کے کام کو ہر چیز پر ترجیح دی اور مقدم رکھا اور اسی جذبہ سے اس اجلاس میں شرکت کی اور باوجود ناسازی طبع اور کمزوری کے کئی گھنٹے تک اجلاس کو جاری رکھا۔تا اکٹھا ہوا ہوا کام ختم ہو جائے۔اصل میں چند سال ہوئے ابا جان کو Heat Stroke ( ضربته الشمس) ہوگیا تھا اور اس کے بعد ہر موسم گرما میں ربوہ کی شدید گرمی میں یہ تکلیف کسی نہ کسی رنگ میں اُبھر آتی تھی۔اس اجلاس میں شرکت کے بعد پھر آپ کی طبیعت پوری طرح وفات تک نہ سنبھلی۔جون کے مہینہ میں میں اکثر ٹیلی فون پر طبیعت پوچھتا رہتا تھا۔اس خیال سے کہ مجھے تکلیف نہ ہو یا میرے کام میں کوئی رکاوٹ نہ ہو یہی فرماتے تھے کہ طبیعت اچھی تو نہیں لیکن گھبراؤ نہ۔اس کے باوجود احتیاطاً میں نے لاہور سے ڈاکٹروں کو ربوہ لے جانے کا انتظام کیا۔Examination میں پہلی بیماریوں یعنی دل کی تکلیف ، ذیا بیطیس اور بلڈ پریشر کے علاوہ ڈاکٹروں نے یہ بھی تشخیص کی کہ Prostate کی تکلیف پیدا ہوتی معلوم دیتی ہے۔جس کا علاج آپریشن ہے جو اباجان کی باقی بیماریوں اور کمزوری کے مدنظر مشکل تھا۔یہ تشخیص مزید فکر کا باعث ہوئی اور یہی فیصلہ ہوا کہ مہینے کے آخر میں آپ لاہور تشریف لے جائیں۔تا علاج کے بارہ میں مشورہ ہو سکے اور اس کے خاکسار کی پہلی کسی تحریر میں یہ تذکرہ آچکا ہے کہ حضرت میاں صاحب لباس میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پوری پوری اتباع فرمایا کرتے تھے۔جون ۶۳ء میں خاکسار ایک روز ربوہ گیا۔آپ باوجود کمزوری اور علالت کے عموماً مغرب کی نماز مسجد مبارک میں پڑھا کرتے تھے اور پھر اس کے بعد بالالتزام حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ کی خیریت دریافت کرنے کے لئے قصر خلافت میں تشریف لے جایا کرتے تھے۔اس روز جو مسجد میں تشریف لائے تو معمول کے خلاف کوٹ اپنے بازو پر رکھا ہوا تھا۔میں نے جب مصافحہ کیا تو فرمایا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اتباع میں گھر سے کوٹ پہنے بغیر نہیں نکلا کرتا تھا۔مگر آج اسقدر شدید گرمی ہے کہ مجھ سے کوٹ برداشت نہیں ہو سکا۔میں نے سوچا کہ پہن تو سکتا نہیں کم از کم اسے اپنے ساتھ تو لے لوں۔اس لئے اس حالت میں آگیا ہوں۔جس میٹنگ کا اوپر ذکر ہوا ہے اس کے متعلق محترم جناب چوہدری محمد انور حسین صاحب امیر جماعت احمدیہ شیخو پورہ ممبر نگران بورڈ نے اس اجلاس سے واپس آکر بیان فرمایا تھا کہ میٹنگ میں بھی جب آپ تشریف لائے تو کوٹ بازو پر ہی رکھا ہوا تھا۔اور آتے ہی میز پر رکھدیا اور فرمایا کہ اب تو مجھ سے کوٹ پہنا بھی برداشت نہیں ہو سکتا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سنت کیوجہ سے ساتھ لایا ہوں اللهم صل علی محمد و آل محمد (عبد القادر ۶۴-۶-۱۰)