حیات بشیر

by Other Authors

Page 404 of 568

حیات بشیر — Page 404

404 اپنے معمول کے مطابق مغرب کی نماز مسجد مبارک میں ادا فرمایا کرتے تھے۔ایک دن جب میں نے مغرب کی اذان کہی تو آپ نے مجھے بلا کر فرمایا کہ آپ اذان اچھی کہتے ہیں۔ایک مضمون ”اذان کی حکمت اور فلسفہ“ پر لکھیں اور پھر مجھے دکھا ئیں چنانچہ خاکسار نے مضمون تیار کر کے آپ کی خدمت میں پیش کر دیا۔آپ نے مضمون کی اصلاح کرنے کے بعد اوپر لکھ دیا کہ اب اسے ”الفضل“ میں شائع کروا دیں۔غالباً وہ مضمون جون یا جولائی ۱۹۵۵ء کے پرچہ میں شائع ہوا تھا۔۱۳ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ آپ جامعہ احمدیہ کے طلباء کی علمی ترقی کا بھی خاص خیال رکھتے تھے اور ان کی ہر ممکن حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے۔تربیت اولاد کی تلقین تربیت اولاد کی آپ کو از حد فکر رہتی تھی اور آپ جماعت کے مردوں اور عورتوں کو اس امر کی تلقین فرماتے رہتے تھے کہ اپنے بچوں کی تربیت صحیح اسلامی طریق کے مطابق بچپن ہی سے شروع کیا کرو۔انہیں ماحول کے بد اثرات سے بچانے کی کوشش کرو اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہو کہ وہ اپنے فضل و کرم سے انہیں سچے مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔چنانچہ اس غرض کے لئے آپ نے ”اچھی مائیں“ کے نام سے ایک چھوٹا سا رسالہ بھی رقم فرمایا تھا۔جو اس سلسلہ میں ایک نہایت ہی مفید رسالہ ہے۔کاش احمدی احباب خصوصاً مستورات اس رسالہ کو بار بار غور سے پڑھیں اور پھر اس پر عمل پیرا ہو کر اپنی اولاد کی تربیت کی فکر کریں۔اس رسالہ میں آپ نے اس امر پر بڑا زور دیا ہے کہ مردوں کو چاہیے کہ شادی کرتے وقت وہ اسلام کی تعلیم کے مطابق عورتوں کے اخلاق اور دین کے پہلو کو ہمیشہ مقدم کیا کریں۔چنانچہ دیندار ماں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: خاکسار راقم الحروف نے بڑے غور کی نظر سے ہزاروں گھروں کے حالات کو دیکھا ہے اور گویا ان کے اندرون خانہ میں جھانک جھانک کر تجسس کی نظر ڈالی ہے مگر میں اس کے سوا کسی اور نتیجہ پر نہیں پہنچا کہ نیک اولاد پیدا کرنے اور نیک بچے بنانے میں ظاہری اسباب کے ماتحت نوے فیصدی حصہ دیندار ماؤں کا ہوتا ہے۔اچھی ماؤں کی نگرانی میں پرورش پانے والے بچے نہ صرف دن رات اپنی ماں کے نیک اعمال یعنی نماز، روزه، تلاوت قرآن، صدقہ و خیرات دین کی خدمت اور جماعتی کاموں کے لئے