حیات بشیر

by Other Authors

Page 401 of 568

حیات بشیر — Page 401

401 اوقات اچھے اچھے طالب علم بھی کسی وجہ سے فیل ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اور عزیز احمد کو اپنے فضل سے کامیاب فرمادے اور دین و دنیا میں حافظ و ناصر ہو۔فقط مرزا بشیر احمد ربوه ۵۶-۷-۸۵ غور فرمائیے! اس خط میں ڈاکٹر صاحب کے فیل ہونے پر اظہار افسوس بھی ہے۔احساس غم کو مٹانے کے لئے ایک عمدہ مثال بھی موجود ہے اور آئندہ کے لئے پوری توجہ اور محنت سے تیاری کرنے کی تحریک بھی کار فرما ہے۔مزید برآں آپ کی تحریر کا ایک ایک لفظ ہمدردی اور شفقت سے بھر پور نظر آتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ کی ہمیشہ یہ خواہش رہتی تھی کہ احمدی بچے دنیا کے ہر میدان میں صف اول پر نظر آئیں۔چنانچہ آپ اپنے ایک پیغام میں جو آپ نے ۱۴/ مارچ ۶۳ء کو دیا فرماتے ہیں: احمدی بچوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی ترقی کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی بشارتیں دے رکھی ہیں۔چنانچہ ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ میری جماعت کے لوگوں کو علم و معرفت میں اتنی ترقی دے گا کہ وہ ساری دوسری قوموں کا منہ بند کر دیں گے۔لیکن جیسا کہ سنت الہی سے ثابت ہے۔خدا تعالیٰ کے کام تدریجی ہوا کرتے ہیں۔شروع میں ایک حقیر سا بیج ہوتا ہے پھر وہ آہستہ آہستہ ترقی کر کے ایک عظیم الشان درخت بن جاتا ہے۔مگر چونکہ ہر تقدیر کے ساتھ تدبیر کا لازمہ ضروری ہے۔اس لئے احمدی بچوں کو چاہیے کہ محنت اور جانفشانی اور عرقریزی کے ذریعہ اپنے لئے ترقی کا رستہ کھولیں اور امتحانوں میں اعلیٰ پوزیشن حاصل کرنے کی کوشش کریں جو شخص کوشش کرتا ہے اور کوشش بھی صحیح طریق پر ہے۔وہ ضرور اللہ تعالیٰ کی نصرت سے حصہ پالیتا ہے پس ضروری ہے کہ اس کو حاصل کرنے کے لئے جس کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بشارت دی گئی کرتا مقام ہے احمدی بچے خاص کوشش اور توجہ اور محنت سے کام لیں۔“ پھر اسی طرح آپ احمدی بچوں کی اعلیٰ کامیابیوں کو سراہتے ہوئے اور ان کا حوصلہ بلند سے بلند تر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: