حیات بشیر — Page 39
39 کردار یہ مبارک وجود بھی سرانجام دے گا۔ان الہامات میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ”فضل تجھ سے نزدیک کیا جائے گا۔‘“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی تشریح میں فرمایا کہ اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ اس کا آنا خدا تعالیٰ کے فضل کا موجب ہوگا۔مگر یہ بات بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے کہ یہ لڑکا شکل و شباہت میں فضل احمد سے جو دوسری بیوی سے میرا لڑکا ہے مشابہت رکھے گا۔ہے الہی وعدوں کے مطابق آپکی ولادت ان پیشگوئیوں کے مطابق ۲۰ را پریل ۱۸۹۳ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی ولادت ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی دن ایک اشتہار بعنوان ”منکرین کے ملزم کرنے کے لئے ایک اور پیشگوئی“ شائع فرمایا اور اس میں تحریر فرمایا کہ دو یہ تو ظاہر ہے کہ انسان کو خود اپنی زندگی کا اعتبار نہیں چہ جائیکہ یقینی اور قطعی طور پر اشتہار دیوے کہ ضرور عنقریب اس کے گھر میں بیٹا پیدا ہوگا۔اب چاہیے کہ شیخ محمد حسین اس بات کا بھی جواب دیں کہ یہ پیشگوئی کیوں پوری ہوئی۔کیا یہ استدراج اب ہے یا نجوم ہے یا اٹکل ہے۔یہ کیا سبب ہے کہ خدا تعالیٰ بقول آپ کے ایک دجّال کی ایسی پیشگوئیاں پوری کرتا جاتا ہے جن سے اسکی سچائی کی تصدیق ہوتی ہے۔“ ۵ احسانات الہیہ کا شکر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی پیدائش کو بشارات الہیہ کے ماتحت ہوئی۔مگر آپ کے انکسار کا یہ عالم تھا کہ آپ نے ایک دفعہ فرمایا: میں جب اپنے نفس میں نگاہ کرتا ہوں تو شرم کی وجہ سے پانی پانی ہو جاتا ہوں کہ ہے۔خدا تعالیٰ ہمارے جیسے کمزور انسان کی پیدائش کو بھی بشارت کے قابل خیال کرتا پھر اس وقت اس کے سوا سارا فلسفہ بھول جاتا ہوں کہ خدا کے فضل کے ہاتھ کو کون روک سکتا ہے۔اللهم لا مانع لما اعطيت ولا معطي لما منعت 1۔اسی طرح ایک اور موقعہ پر آپ نے فرمایا: یہ خاکسار حضرت مسیح موعود کے گھر میں پیدا ہوا اور یہ خدا کی ایک عظیم الشان نعمت ہے جس کے شکریہ کے لئے میری زبان میں طاقت نہیں بلکہ حق یہ ہے کہ میرے دل