حیات بشیر

by Other Authors

Page 35 of 568

حیات بشیر — Page 35

35 گالیاں سن کر دعا دو پاکے دکھ آرام دو! کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار خاکسار نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے اخلاق میں عملاً اس کا مشاہدہ کیا۔استاذی و مخدومی چوہدری محمد ظفر اللہ خانصاحب اور آپ میں ایسی محبت اور یک رنگی میں نے دیکھی جو کم کہیں پائی جاتی ہے۔میں نے دیکھا کہ مخدومی چوہدری صاحب کے متعلق جو کام ہوتا حضرت مرزا بشیر احمد صاحب محترم چوہدری صاحب کی طرف سے خود اس کا ذمہ لے لیتے گویا آپ اور چوہدری صاحب کوئی دو وجود نہیں ہیں۔ء اور ۶۳ء میں آپ کی طرف سے جو خطوط آتے ان میں اکثر یہ بات درج ہوتی کہ آپ کے انجام بخیر کیلئے دعا کی جائے ایسا خط پڑھ کر میرا ماتھا ٹھنکتا اور میرا دل دھڑکتا۔کیونکہ حکیم کی بات حکمت سے خالی اور بلاوجہ نہیں ہوتی۔اس کے بعد ع جس وقت کا دھڑکا تھا وہ وقت آ گیا آخر اور آپ سلسلہ کی روز افزوں ترقیات دیکھتے ہوئے جن میں خود آپ کا بھی وافر حصہ تھا کامیاب بامراد ہو کر اپنی منزل مقصود پر جا پہنچے في مقعد صدق عند ملیک مقتدر جو باتیں اوپر بیان کی گئی ہیں ان سے آپ کی سیرت کے مختلف پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔جو ہمارے لئے ایک مشعل راہ ہیں اور انشاء اللہ رہتی دنیا تک قائم رہیں گے۔ایسے محبوب کی جدائی سے دل میں ہر وقت ایک درد ہے رہے گا اور رہنا چاہیے۔تاکہ ہم آپ کے اسوہ سے فائدہ اٹھاتے رہیں اور آپ کا طرز عمل ہمارا نصب العین رہے اور اسی غرض کے لئے یہ چند سطور خاکسار نے ایک زخمی دل اور نمناک آنکھوں کے ساتھ سپرد قلم کی ہیں۔اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے آپ کا ایک خط نقل کر دینا بھی مناسب ہے جس میں آپ نے اپنا ایک رویاء درج فرمایا تھا اور یہ خط ۲ / جولائی ۶۰ء کا لکھا ہوا ہے۔وہو ہذا