حیات بشیر

by Other Authors

Page 314 of 568

حیات بشیر — Page 314

314 تیسرا باب اطاعت امام اور اس سے متعلقہ مسائل اطاعت امام کا جذبہ اسلام نے جن امور پر سب سے زیادہ زور دیا ہے ان میں سے ایک اہم امر اطاعت امام کا مسئلہ ہے۔مسلمان کوئی عبادت نہیں بجا لا سکتے جس میں کوئی امام ان کی رہنمائی نہ کر رہا ہو۔ہماری روز مرہ کی نمازیں ہیں جمعہ کی نماز ہے۔عیدین کی نمازیں ہیں۔ہر نماز میں امام کا وجود ضروری ہے اور اس کی اطاعت ایسی لازم اور ضروری قرار دے دی گئی ہے کہ اگر وہ نادانستہ طور پر غلطی بھی کر رہا ہو تو ہم اُسے سبحان اللہ کہہ کر توجہ تو دلا سکتے ہیں لیکن اس کی اطاعت سے سرمو انحراف نہیں کر سکتے۔اگر دو تین مسلمان سفر پر روانہ ہوں تو ہادی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اپنے میں سے ایک شخص کو امیر تسلیم کر کے سفر شروع کریں۔اسی طرح جنازہ کی نماز ہے وہ بھی بغیر امام کے نہیں ہو سکتی۔حج کی عبادت کیلئے بھی ایک امیر کا ہونا ضروری ہے۔جہاد مسلمانوں پر فرض ہے وہ بھی بغیر امام کی سرکردگی کے نہیں ہو سکتا۔یوں بھی مسلم قوم کیلئے فرض قرار دیا گیا ہے کہ وہ ہر زمانہ میں ایک امام کے تابع ہو کر زندگی بسر کریں۔اگر وہ اُٹھنے کا حکم دے تو سب لوگ اُٹھ کھڑے ہوں اور اگر بیٹھنے کا اشارہ کرے تو سب بیٹھ جائیں۔چنانچہ تاریخ ادیان کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ جتنی اطاعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آپکے صحابہ کرام نے کی ہے اس کی نظیر اور کسی نبی کے متبعین میں نہیں ملتی۔یہی وجہ ہے کہ ترقی بھی سب سے زیادہ صحابہ کرام نے ہی کی۔اسلام سے قبل وہ وحشیانہ زندگی بسر کرتے تھے۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بعد آپ پر ایمان لانے کے نتیجہ میں انسان بن گئے اور جب فیض صحبت کا رنگ ان کے اوپر چڑھا تو انسان سے با اخلاق اور با اخلاق سے با خدا انسان بن گئے اور دنیا یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئی کہ آنحضرت ﷺ کی پیروی کے نتیجہ میں مسلم قوم کا زمین و آسمان بالکل بدل گیا ہے۔مگر ظاہر ہے کہ ہر مومن کی اطاعت ایک جیسی نہیں ہو سکتی کم و بیش فرق لازمی اور ضروری ہے۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ جتنی اطاعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت