حیات بشیر

by Other Authors

Page 265 of 568

حیات بشیر — Page 265

265 جن مبارک میووں کا ذکر قرآن میں آتا ہے وہ سب خرید کر میری طرف سے ہمشیرہ اُتم طاہر احمد کو بطور تحفہ پیش کرو۔“ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ جب میں نے اس کی تعمیل کی اور آپ کو اطلاع دی تو آپ کو پھلوں کی پیش کردہ مقدار کم معلوم ہوئی اور ارشاد فرمایا کہ دوبارہ اور خرید کر پیش کرو۔“ ۱۷ اسی طرح جب سکولوں اور کالجوں کے امتحانات ختم ہوتے تو آپ ہمیشہ غریب طلبا کے لئے نئی کتب کی خرید یا اوپر کی جماعتوں میں داخلہ وغیرہ کے لئے مخیر دوستوں سے اپیل کیا کرتے اور فرماتے کہ سلسلہ کی تاریخ بتاتی ہے کہ بعض غریب طلباً جو از خود تعلیم نہیں پا سکتے تھے وہ سلسلہ کی امداد کے ذریعہ تعلیم پاکر جماعت کے لئے نہایت مفید اور کار آمد وجود بن گئے۔غرض جماعت کے غریب اور ہونہار طلبا کی تعلیمی ترقی میں آپ ہمیشہ دلچسپی لیتے اور ان کی مدد فرماتے۔۲۸ آپ کی شفقت کے ثبوت میں ایک اور واقعہ کا ذکر کرنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے۔19ء میں درد صاحب مرحوم کے ولایت جانے پر بعض لوگوں سے کچھ ناشائستہ حرکات صادر ہوئیں۔جس پر حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز شدید ناراض ہوئے اور حضور نے خود اس معاملہ کی تحقیق شروع فرما دی۔کئی دفعہ ایسا ہوا کہ دوران تحقیق میں ہی کھانے کا وقت آ گیا۔اس وقت تمام لوگ جو زیر الزام ہوتے تھے خود حضور کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا تناول کیا کرتے تھے۔الفضل اس امر کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے۔کہ وو ایسی حالت میں زیر الزام شخص قدرتاً جھینپتے اور شرماتے۔آگے ہاتھ بڑھا کر کھانے پینے کے لئے کوئی چیز اُٹھانا ان کے لئے دوبھر ہوتا۔اس وقت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے میزبانی کے فرائض ادا فرماتے اور اپنے ہاتھ سے اشیاء اُٹھا اٹھا کر آگے رکھتے۔19۔غلطیوں کی اصلاح محبت و شفقت کے اس پہلو کے ساتھ ساتھ جب کبھی کسی شخص کو غلط قدم اُٹھاتے دیکھتے تو ایک غیور مومن اور مرد مجاہد کی طرح اس کی اصلاح کی بھی پوری کوشش فرماتے اور اس بارہ میں کسی شخصیت کی قطعاً پروا نہیں کرتے تھے۔ء کے جلسہ سالانہ پر ایک اشتہار آپ کی نظر سے گذرا جس میں ایک احمدی مناظر