حیات بشیر

by Other Authors

Page 264 of 568

حیات بشیر — Page 264

264 بیمار تھے۔پھر حضرت اُمّم ناصر کی وفات کے صدمہ کا ابھی آپ پر کافی اثر ہے اور کچھ مستورات بھی اندر ملاقات کے لئے گئی ہوئی ہیں اس لئے اگر آپ لوگ ملاقات نہ کریں تو آپ کی مہربانی ہوگی۔ابھی دربان نے اپنی بات ختم ہی کی تھی کہ اندر سے محترم میاں مظفر احمد صاحب تشریف لے آئے اور فرمایا۔شیخ صاحب! کیا آپ ابا جان سے ملنا چاہتے ہیں۔میں نے کہا جی ہاں! میرا یہ جواب سن کر آپ اندر تشریف لے گئے اور دربان سے کہا کہ انہیں اندر جانے دیں۔میں نے ابھی اندر قدم رکھا ہی تھا کہ مکرم سید بہاول شاہ صاحب نے آواز دے کر کہا۔شیخ صاحب! کیا آپ اکیلے ہی اندر جائیں گے؟ اور ہم! میں نے کہا۔آپ بھی آجائیں۔شاہ صاحب نے میرے اس جواب سے سمجھا کہ شاید میں نے سب دوستوں کو اندر آنے کو کہا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ چالیس پچاس آدمی میرے پیچھے ہولئے اور سب نے یکے بعد دیگرے جا کر مصافحہ شروع کیا۔یہ حال دیکھ کر آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ آئندہ جب ہمیں معلوم ہوگا کہ شریف صاحب ملنے آئے ہیں تو ہم یہ سمجھ کر کہ شریف سے مراد چالیس پچاس افراد ہیں کسی بڑے کمرہ کا انتظام کیا کریں گے۔پھر آپ نے اکثر دوستوں سے ان کے حالات بھی دریافت فرمائے۔۲۶ آپ کی محبت اور شفقت سچ تو یہ ہے کہ آپ کی یاد اس زمانہ کے ان ہزاروں انسانوں کو زندگی بھر خون کے آنسو رُلاتی رہے گی جو آپ کی محبت اور شفقت سے حصہ لے چکے ہیں اور بعد میں آنے والے ان واقعات کو پڑھ کر حیران ہوں گے اور تعجب سے کہیں گے کہ کس طرح ایک محدود طاقتوں اور محدود وسائل رکھنے والا انسان ہزاروں انسانوں کو اپنے اخلاق حسنہ اور اوصاف حمیدہ سے اپنا گرویدہ بنا سکتا ہے۔محترم مولانا محمد یعقوب صاحب فاضل انچارج صیغہ زود نویسی ربوہ لکھتے ہیں: وو ۲۴ ء میں سیدہ ام طاہر بیمار ہوئیں تو آپ نے بڑی توجہ سے صدقات اور خیرات کا اہتمام کیا۔پھر آپ نے قسم قسم کے پھل سیدہ موصوفہ کے لئے بہم پہنچانے کا اہتمام فرمایا۔بلکہ ایک دفعہ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کو آپ نے لکھا کہ