حیات بشیر — Page 263
263 تک آپ کا کوئی فوٹو نہیں دیکھا اور میری یہ ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ آپ سے آپ کا فوٹو حاصل کروں۔فرمایا: میں نے کبھی اس طرف توجہ ہی نہیں دی۔اس کے معاً بعد آپ نے اپنے خادم کو آواز دی مگر کوئی خادم وہاں موجود نہ تھا۔پھر مجھے اشارہ فرمایا کہ مجھے سہارا دے کر چارپائی پر بٹھا دو۔میں نے تعمیل ارشاد کی۔اس کے بعد آپ نے آہستہ آہستہ اپنے پاؤں چار پائی سے نیچے لٹکائے اور میرے بازو کا سہارا لے کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور اس طرح اُٹھنے میں درد نقرس کی تکلیف بہت بڑھ گئی۔میں سمجھا کہ شاید غسلخانہ میں تشریف لے جانا چاہتے ہیں مگر آپ نے میرے کندھے کا سہارا لیتے ہوئے مجھے اس کمرہ میں پڑی ہوئی الماری کی طرف چلنے کو کہا۔الماری کھول کر آپ نے کچھ کاغذات ادھر اُدھر پلٹنے شروع کر دیے۔چند منٹوں کے بعد ہی معاً اپنی تکلیف کو بھول کر مسکرائے اور فرمایا کہ ” لول گئی “ میں نے دیکھا کہ آپ کے ہاتھ میں ایک چھوٹے سائز کا فوٹو ہے۔وہ فوٹو آپ نے مجھے دیا اور فرمایا کہ مجھے یاد آ گیا تھا۔ایک دفعہ یہ فوٹو میں نے عرصہ ہوا الماری میں پڑا دیکھا تھا۔پھر فرمایا ” میں تو پسند نہیں کرتا مگر بچے کبھی کبھی 66 میرا فوٹو لے لیتے ہیں۔“ اس کے بعد میں نے پھر آپ کو چارپائی پر لٹا دیا۔“ محترم شیخ صاحب مرحوم کے اس واقعہ سے احباب اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپ نے اپنے ایک خادم کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے کس قدر تکلیف اُٹھائی۔اگر کوئی اور ہوتا تو اغلبا یہی کہتا کہ شیخ صاحب! مجھے یاد پڑتا ہے کہ الماری میں کوئی فوٹو ہے تو سہی مگر اس وقت چونکہ کوئی خادم یہاں موجود نہیں اور مجھ سے اٹھا نہیں جاتا اس لئے پھر کسی موقعہ پر آپ کی خواہش پوری کردی جائے گی۔اسی قسم کا ایک اور واقعہ شیخ صاحب مرحوم نے یہ بیان فرمایا کہ " حضرت ام ناصر احمد صاحبہ کی وفات کی خبر سنکر خاکسار ربوہ پہنچا۔جونہی حضرت میاں صاحب کی کوٹھی پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لاہور کے چالیس پچاس احباب کوٹھی کے باہر مغموم حالت میں کھڑے ہیں اور حضرت میاں صاحب سے ملاقات کے خواہاں ہیں۔میں نے آپ کے خادم سے کہا کہ اگر اندر اطلاع دے سکو تو بڑی مہربانی ہوگی۔خادم صاحب کا جواب یہ تھا کہ حضرت میاں صاحہ پہلے ہی