حیات بشیر — Page 233
233 معلوم ہوتا ہے کوئی مکار لطیف کو اس رشتہ کے متعلق ورغلا رہا ہے۔جب رخصتانہ ہوا تو ابھی قادیان کے درویش پاسپورٹ کے ذریعہ پاکستان نہیں آسکتے تھے۔آپ کو اس بات کا بہت احساس تھا کہ اس کو اپنے باپ کی عدم موجودگی کا صدمہ ہوگا۔اس لئے آپ نے غیر معمولی طور پر ہمارا بہت ہی خیال رکھا اور ہر ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش فرمائی اور خود تشریف لا کر دعا کروائی اور بعد میں بھی ہمیشہ طرح خیال رکھا۔کچھ عرصہ بعد میری صحت کمزور ہوگئی تو آپ نے فرمایا کہ تم بہت کمزور ہو گئی ہو۔میں نے عرض کی کہ سسرال والے تو کہتے ہیں کہ تم اسی طرح کی تھی۔آپ مسکرائے اور فرمایا۔بعد میں اسی طرح کہا کرتے ہیں۔دراصل لڑکیاں وزن کر کے دینی چاہئیں۔“ ہر ایک دفعہ میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت میاں صاحب! مجھے تو اپنے بچوں کی تربیت کے متعلق بہت فکر رہتا ہے۔آپ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ فکر نہیں کرنا چاہیے۔دعا کرنی چاہیے اور میری کتاب ”اچھی مائیں بار بار پڑھا کرو اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کیا کرو“ ”میری چھوٹی بہن آپ کی خدمت میں گئی۔آپ نے فرمایا کہ ”کھانا کھالو۔“ اس نے کہا کہ میں کھا کر آئی ہوں۔آپ نے دریافت فرمایا ”کیا کھایا ہے؟ اس نے کہا کہ کھمبیوں کے ساتھ روٹی کھا کر آئی ہوں۔آپ نے فرمایا ”ابھی جاؤ اور جا کر میرے لئے لاؤ۔مجھے بیحد پسند ہیں۔حضرت اماں جان برسات میں ضرور پکوایا کرتی تھیں، پھر کئی بار آپ نے برسات میں کہلوایا کہ ھمیں اگر ملیں تو مجھ کو بھیجوا ئیں۔“ کھانوں کا ذکر ہورہا تھا تو آپ نے فرمایا کہ 'لاہور میں جو شادیوں کے موقع پر پالک ( گوشت) کا ساگ تیار ہوتا ہے وہ مجھے بہت پسند ہے۔تم کو اگر اس طرح پکانا آتا ہے تو پکا کر بھجوانا۔لیکن ہو بالکل اسی طرح گھلا ہوا۔“ میں آپ کی خدمت میں اپنی بہن کے رخصتانہ کی دعا میں شمولیت کی درخواست کرنے کے لئے حاضر ہوئی۔آپ نے فرمایا کہ میں آؤں گا میں نے پھر واپسی پر