حیات بشیر — Page 210
210 حقیقت میں یہ ہے بھی اُسوہ حسنہ۔اگر حضور کے اس اسوہ پر عمل کیا جائے تو آج جتنی خرابیاں بڑی عمر میں پہنچ کر بچوں کی شادیاں کرنے سے پیدا ہورہی ہیں ان کا یکسر خاتمہ ہو جائے۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کا بیان ہے کہ: شخص ”قادیان کا ذکر ہے۔ایک مرتبہ گھر کے کسی فرد کا ذکر ہؤا۔گرمیوں کی شام تھی چی جان باہر صحن میں پلنگ پر بیٹھی تھیں اور عمو صاحب (یعنی حضرت ممدوح) مجھے بازو سے پکڑے ہوئے ٹہل رہے تھے کسی کا ذکر ہو رہا تھا جس نے حضرت عموّ صاحب تک کسی کی کوئی بات غلط اور نامناسب رنگ میں پہنچائی تھی جس سے ناحق آپ کے دل میں کچھ رنج پیدا ہو گیا۔مگر چونکہ آپ ہمیشہ ایسے موقعہ پر متعلقہ سے دریافت کر لیا کرتے تھے۔اس لئے تھوڑے ہی عرصہ بعد آپ کو حقیقت حال معلوم ہو گئی۔چنانچہ اسی کے متعلق آپ مجھ سے افسوس کا اظہار فرما رہے تھے کہ بعض لوگ خواہ مخواہ فتنہ کا موجب بن جاتے ہیں یہ سن کر حضرت بچی جان نے کہا کہ میں تو آپ کو ہمیشہ کہتی ہوں کہ وہ شخص نا قابل اعتماد ہے مگر پھر بھی آپ اس سے تعلق رکھتے ہیں۔اس پر آپ نے وہیں قدم روک لئے اور ایک ایسی آواز میں جو غصہ والی اور اونچی تو نہیں تھی مگر اس میں بے پناہ قوت پائی جاتی تھی۔فرمایا دیکھو۔مجھے ایسا مت کہو۔آنحضرت علیہ نے فرمایا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی کمزوریوں پر نگاہ رکھتا تو اس کا کسی بندہ سے تعلق نہ ہوتا۔وہ اپنے بندے کی کسی خوبی پر نظر رکھ کر اس سے تعلق رکھتا ہے۔پس وہ میری کیسی ہی بدخواہی کرے میں اس سے تعلق نہیں توڑوں گا۔پھر دھیمی اور نرم آواز میں فرمانے لگے۔تم جانتی ہو کہ اس میں بعض بہت بڑی خوبیاں بھی ہیں۔اور پھر ایک دو نمایاں خوبیوں کا ذکر فرمانے لگے۔“ اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب فرماتے ہیں اور آپ کا فرمانا بالکل صحیح ہے کہ: اپنے تمام واقفیت کے حلقہ پر نظر دوڑا کر میں پورے وثوق اور شرح صدر کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آپ اس زمانہ کے بہترین ناصحین میں سے تھے۔“ ۲۴ ایک حقیقت ہے کہ لوگ غصے میں آکر خدا تعالیٰ اور رسول کے فرامین کو عموماً بھول جایا کرتے ہیں